حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 63 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 63

۲۸۔ قرآن مجید کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ مسلسل واقعات کا ذکر کرے۔جیسے پیچھے  کے بعدٍ فرما دیا۔اور درمیانی واقعات کا ذکر نہیں فرمایا۔ایسا ہی یہاں فرما دیا۔اور یہاں مصر سے واپس آنے کا ذکر ہے۔: کے یہ معنے نہیں کہ گود میں اُٹھائے لائی بلکہ سوار کر کے لائی۔دوسرے مقام پر یہ محاورہ قرآنِ مجید میں موجود ہے  (التوبۃ:۹۲)اب اسکے یہ معنے تو نہیں کہ ان لوگوں نے درخواست کی کہ نبی کریم (صلی اﷲ علیہ وسلم) ہمیںاپنی گود میں اٹھا لیں۔بلکہ سواری مہیّا کرنے کے معنے ہیں۔: سے مراد عجیب امر لائی ہو۔اور کیوں ایسا نہ ہو ( وہ کہتے ہیں) تیری ماں بھی نیک پار ساتھی۔تیرا باپ بھی اچھا آدمی تھا۔اچھوں کے اچھے ہوتے ہیں۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۲) ۲۹۔ : قوم کے بزرگ کے نام پر لوگوں کے نام ہوتے ہیں۔جیسے گیلانی سیّد۔خواہ دس پُشتوں سے پنجابی ہوں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۴) : اس لئے فرمایا۔کہ وہ ہارون کی قوم میں سے تھیں جیسے قریش۔راجپوت۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۲) قرآن نے مریم مسیح علیہ السلام کی ماں کو اُختِ ہارون۔ہارون کی بہن کہا۔یہ بات صحیح نہیں۔جواب سنئے۔۱۔معترض عیسائی لوگو! کوئی الہامی اور روح القدس کی لکھائی ہوئی تاریخ ایسی نہیں جس میں مریم