حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 64 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 64

کا مفصّل حال مرقوم ہو اور ایسی بھی کوئی کتاب عیسائیوں کے گھر میں نہیں۔جس سے مریم کے بھائیوں اور ماں باپ وغیرہ رشتے داروں کے نام کا یقینی پتہ لگے۔پھر قرآن کے کلمۂ اختِ ہارون پر آپ کا اعتراض کیا؟ ٔ ۲۔پادری لوگو! تم نسب ناموں اور قصّوں پر اعتراض نہ کیا کرو۔کیونکہ پولوس۔طمطاؤس کے پہلے خط میں لکھتا ہے ’’ کہانیوں اور بے حد نسب ناموں پر لحاظ نہ کریں۔یہ سب تکرار کا باعث ہوتا ہے نہ تربیتِ الہٰی کا جو ایمان سے ہے‘‘ ۱۔طمطاؤس باب۴۔۳۔سنو! انجیل متی کی ابتداء میں مسیحؑ کو ابن داؤد اور داؤد کو ابن ابراہیم لکھا ہے۔متی باب۱۔حالانکہ مسیحؑ اور داؤد کے درمیان اور داؤد و ابراہیم کے مابین پشت ہا پُشت کا فرق ہے۔بلکہ بقول تمہارے مسیح ابن داؤد ہی نہیں۔۴۔سنو! الیصبات کو ہارون کی بیٹی کہا گیا (لوقا ا باب ۵) حالانکہ الیصبات اور زکریا کے زمانہ سے جن کا ذکر لوقا نے کیا ہے بہت ہی مدّت پہلے ہارون مر چکے تھے۔اور الیصبات اور ہارون میں پُشت ہاپُشت کا فرق ہے… بات یہ ہے۔ناموں میں اشتراک بھی ہوتا ہے۔دیکھو یوسف اور یعقوب مسیحؑ کے بھائی بھی ہیں۔اور اُن سے سینکڑوں برس پہلے یوسفؑ اور یعقوبؑ اسحاق نبی کے پوتے اور بیٹے بھی گزرے ! پس کیا ممکن نہیں کہ ایک ہارونؑ موسٰیؑ کے بھائی ہوں اور دوسرے مریم کے۔۵۔سنو! عرب میں اخؔ اور اختؔ کالفظ وسیع معنوں میں مستعمل ہوتا ہے۔حقیقی بھائی اور ایک ہی پُشت کے بھائی پر محدود نہیں۔دیکھو قرآن:۔۔(سیپارہ ۱۲ سورہ ہود رکوع ۶ آیت: ۶۲) ۔(سیپارہ ۱۲ سورہ ہود رکوع ۵ آیت: ۵۱) حالانکہ صالح اور ہود اپنی اپنی قوم کے حقیقی بھائی نہ تھے۔اور زرقانی شرح مواہب اللدنیہ میں ازواج کی تاریخ میں صفیہ کے قصّے میں لکھا ہے کہ صفیہ بی بی پر جو خیبر کے یہود سے تھیں۔رسولؐ اﷲ کی اور بیبیوں نے کچھ طعن کیا اور صفیہ نے اُن کے طعن و تشنیع کا تذکرہ اپنے خاوند محمد مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وسلم سے کیا۔تو آپؐ نے فرمایا۔تو نے کیوں نہ کہا۔اَبِیْ ھَارُوْنَ وَ عَمِّیْ مُوْسٰی۔وَزَوْجِیْ مُحَمَّدٌ ؐ۔دیکھویہاں ہارونؑ موسٰیؑ نبی کے بھائی کو اَبْؔ یعنی باپ کہا ہے حالانکہ بہت مدّت پہلے گزر چکے۔عرب کے لوگ عمدہ تلوارکو اخوثقۃ اور بڑے بہادر کو اَخُوْغَمَرَاتِ الْمَوْتِ کہتے ہیں۔غرض تھوڑے بہت تعلق پر اخوت کا اطلاق ہوتا ہے۔مریم صدّیقہ