حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 59 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 59

: اس میں اشارہ کہ اَحْیَاہُ اﷲُ بِالْاِیْمَانِ ایمان کے ساتھ لمبی زندگی پائے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۳) ۹۔  : یہ کلمۂ یأ سْ نہیں۔کہ خدا تعالیٰ فرما چکا ہے (یوسف:۸۸)بلکہ یہ دعا کو عاجزانہ بنانے کا رنگ ہے۔: یعنی نکاح ثانی بھی اب نہیں ہو سکتا۔: اس حد سے آگے جو صحبت کے لائق ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۳) : لکھا ہے ۷۵۔۸۰ سال عمر تھی۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۶ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۱۔  : باتیں چھوڑ دو۔اﷲ تعالیٰ کے ذکر و تسبیح سے خاص قسم کی قوّت بڑھ جاتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۳) : بہت بولنے والے کے قوٰی مضمحل ہو جاتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۶ ستمبر ۱۹۱۳ء) : یہ نسخہ بہت مجرّب ہے اور اب بھی نشان ہے۔کلام نہ کرے اور ذکرِ الہٰی میں شاغل رہنے سے قوّت بڑھ جاتی ہے۔شیعوں میں تسبیح فاطمہ مشہور ہے۔اور سنّی بھی اسے مسنون سمجھتے ہیں۔خاتونِ جنّت نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور عرض کیا کہ مجھے دو تکلیفیں ہیں۔ایکؔ چکّی پیسنی پڑتی ہے۔دومؔ پانی کا مشکیزہ بھی خود ہی لانا پڑتا ہے۔اور اپنے ہاتھ دکھائے اور لونڈی کی التجاء کی۔آپؐ نے فرمایا کہ میں تجھے اس سے بہتر شے بتلاتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد سبحان اﷲ ۳۳ بار، الحمدﷲ ۳۳ بار، اﷲ اکبر ۳۳ بار