حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 584
آ جاتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۱ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۳۳۔ : ان کی کوششیں بار آور نہ ہوں گی اولاً مگر دنیا میں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۱ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۳۶۔ جس نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی اِتِّباع کا ان کو دعویٰ ہے۔ان کا تو یہ حال تھا۔کہ جب ایک جنگ میں بعض صحابہ کی غلطی سے مومنوں کے پاؤں اُکھڑ گئے تو آپ تنِ تنہا جس طرف سے تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔بڑھے اور اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِب اَنَا ابنُ عَبْدالمُطَّلِبْ کا نعرہ لگانا شروع کیا۔دیکھو صاحب۔لڑائی ہے تو مجھ سے ہے۔میں موجود ہوں۔اگر کوئی جاتا ہے تو جائے میں میدانِ جنگ میں موجود ہوں۔یہ تھا آپؐ کا استقلال۔اور یہ تھی آپ کی ہمّت۔یہ تو نبوّت کے وقت کا ذکر ہے۔اس سے پہلے بھی آپ نے نوجوانی کے عالم میں اپنی بے عدیل بیدار مغزی کا ثبوت دیا۔آپؐنے نوجوانوں کی ایک انجمن بنائی۔جس کا کام تھا مظلوموں کی حمایت۔ایک مظلوم آپ کے پاس آیا۔جس کی شکایت اس نے کی۔وہ بڑا آدمی تھا۔کوئی اسے کہنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔آپ خود گئے اور کچھ ایسے دل آویز طریق سے تقریر کی کہ اس کا حق اسے دلا دیا۔اسی طرح قیصرِروم کی طرف سے ایک شخص مقرر ہوا کہ وہ جوڑ توڑ کر کے عرب پر قیصرِ روم کا اثر بڑھا دے اور یہ ملک اس کے قبضہ میں آ جائے۔آپؐ نے فوراً اسے بھانپ لیا اور اس قومی نمک حرام کو پیش کر دیا۔پس اے دوستو! تم اس نبی کی اُمّت ہو۔تو ایسا ہی حزم و احتیاط۔ہمت۔استقلال اور محنت اختیارکرو۔۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۴ صفحہ۱۷۸ ماہ اپریل ۱۹۱۲ء)