حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 581
موقوف ہو جائیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۱ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) غلامی کی نسبت فرمایا … پس یا احسان کیجیئو۔پیچھے اس کے اور یا بدلہ لیجیئو یہاں تک کہ رکھ دیوے لڑائی بوجھ اپنے اسلام میں مخالف قیدی جب جنگ سے آتے اور اس وقت ان کا واپس کرنا مصلحت نہ ہوتا۔تو پرورش اور تربیت کے واسطے مجاہدین کے سپرد کرتے اور حکم ہوتا جو کھانا تم کھاؤ۔ان کو دو۔جو تم پہنو۔ان کو پہناؤ۔طاقت سے زیادہ کام مت بتاؤ۔ہاں جیل خانوں اور دریائے شور کے دُکھ نہ دیئے جاتے تھے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل ایڈیشن دوم صفحہ۵۵) قیدیانِ جنگ چار قسم کے ہوتے ہیں اور اب بھی چار قسم ہیں اوّل وہ جو شرارت کے سبب سے اس قابل ہی نہیں رہتے کہ امنِ عام کے سخت دشمن نہ ہوں۔ایسے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔چنانچہ اب بھی کورٹ مارشل میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ایسے موذیوں کا زندہ رکھنا ایک ایسے دانت کی مثال ہے جس کے ضرر سے دوسرے دانتوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔اگر نکالانہ جاوے تو سارے دانتوں پر اس کا بُرا اثر پڑ کر سب کو تباہ کر دیتا ہے۔دوسرے وہ قیدی جن کے بدلے روپیہ دے کریا دوسرے قیدیوں کو چُھڑانے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ان دونوں کا ذکر قرآن میں یوں آیا ہے۔ (بقرہ:۱۹۲) ۲۔میں ہے۔سومؔ۔وہ جن کا مفت چھڑانا ہی قرینِ مصلحت ہوتا ہے۔جن کا ذکرمیں آ گیاہے۔چہارمؔ۔وہ جن کا واپس کرنا یا ان کا بدلہ لینا یا قتل کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ایسے قیدی اب بھی مہذب گورنمنٹوں میں موجود ہیں اور پورٹ بلیئر وغیرہ انہیں سے آباد ہیں۔ایسے قیدیوں کی اگر شادیاں بیاہ روک دئے جاویں تو ان کے فطری قویٰ پر کیسا بُرا اثر پڑتا ہے۔میرے ایک انگریزی خواں دوست نے ایسا اعتراض کیا تو میں نے اس کو قیدیوں کی چاروں مثالوں سے سمجھایا تھا۔اوّل بیمار دانت کو باندھا جاتا ہے۔اس کی منجنوں سے مالش کی جاتی۔پھر کاٹا جاتا۔پھر اکھاڑ کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔یہی حال ہے قیدیانِ جنگ کا پس جو قیدی دائم الحبس ہوں ان کو بیاہ سے روکنا تو جائز نہیں۔پس مرد ہوں یا عورتیں سب کو نکاح کی اجازت ہے۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۱۴۔