حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 578
بڑے ہی بد قسمت وہ لوگ ہیں جن کے ماں باپ دنیا سے خوش ہو کر نہیں گئے۔باپ کی رضامندی کی میں نے دیکھا ہے اﷲ کی رضامندی کے نیچے ہے اور اس سے زیادہ کوئی نہیں۔افلاطون نے غلطی کھائی ہے وہ کہتا ہے کہ ’’ ہماری روح جو اوپر اور منزّہ تھی ہمارے باپ اسے نیچے گرا کر لے آئے‘‘ وہ جھوٹ بولتا ہے۔وہ کیا سمجھتا ہے روح کیا ہے۔نبیوں نے بتلایا ہے کہ یہاں ہی باپ نطفہ تیار کرتا ہے پھر ماں اس نطفہ کو لیتی ہے اور بڑی مصیبتوں سے اسے پالتی ہے۔۹ مہینے پیٹ میں رکھتی ہے بڑی مشقّت سے اسے مشقّت سے اٹھائے رکھتی ہے اور مشقت سے جنتی ہے۔اس کے بعد وہ دو سال یا کم از کم پونے دو سال اسے بڑی تکلیف سے رکھتی ہے اور اسے پالتی ہے۔رات کو اگر وہ پیشاب کر دے تو بستر کی گیلی طرف اپنے نیچے کر لیتی ہے اور خشک طرف بچّے کو کر دیتی ہے۔انسان کو چاہیئے کہ اپنے ماں باپ ( یہ بھی میں نے اپنے ملک کی زبان کے مطابق کہہ دیا۔ورنہ باپ کا حق اوّل ہے اس لئے باپ ماں کہنا چاہیئے) سے بہت ہی نیک سلوک کرے۔تم میں سے جس کے ماں باپ زندہ ہیں۔وہ ان کی خدمت کرے۔اور جس کے ایک یا دونوں وفات پا گئے ہیں۔وہ ان کیلئے دعا کرے۔صدقہ دے اور خیرات کرے۔ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مردہ کو کوئی ثواب وغیرہ نہیں پہنچتا۔وہ جھوٹے ہیں۔ان کو غلطی لگی ہے۔میرے نزدیک دعا۔استغفار۔صدقہ۔خیرات بلکہ حج۔زکوٰۃ۔روزے یہ سب کچھ پہنچتا ہے۔میرا یہی عقیدہ ہے اور بڑا مضبوط عقیدہ ہے۔ایک صحابی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری ماں کی جان اچانک نکل گئی ہے۔اگر وہ بولتی تو ضرور صدقہ کرتی۔اب اگر میں صدقہ کروں تو کیا اسے ثواب ملے گا تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں۔تو اس نے ایک باغ جو اس کے پاس تھا صدقہ کر دیا۔میری والدہ کی وفات کی تار جب مجھے ملی۔تو اس وقت میں بخاری پڑھ رہا تھا۔وہ بخاری بڑی اعلیٰ درجہ کی تھی۔میں نے اس وقت کہا۔اے اﷲ۔میرا باغ تو یہی ہے۔تو میں نے پھروہ بخاری وقف کر دی۔فیروزپور میں فرزند ؔ علی کے پاس ہے۔(الفضل ۳؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) ۳۰۔