حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 566
۔(انبیاء:۲۹) ۔(زخرف:۸۷) ۔(مومن:۸) ۔(شورٰی:۶) (فصل الخطاب حصہ دوم ایڈیشن دوم صفحہ۱۳۷،۱۳۸) اس سوال کے جواب میں کہ ’’ شفاعت کبریٰ اور صغریٰ کی تعریف اور ثبوت کیا ہے‘‘ فرمایا:۔یہ قرآن ہی وہ کتاب ہے جو ہر زمانہ کے فلسفہ میں اپنے آپ کو راست باز ثابت کرتی رہی اور ثابت کرے گی جس قدر علوم دنیا میں ترقی پاویں گے۔یہ کتاب ان کے سچے اصولوں سے کبھی مخالفت نہ کرے گی اور اپنا صدق ظاہر کرنے کو بے تعصّب محقّقوں کو اپنی راستی پر کھینچ لائے گی۔اگر حق طلبی مدّ نظر ہے۔اسی سوال کے جواب پر اکتفا کیجئے اور لیجئے ہم آپ کے تمام پہلوؤں کو دیکھ کے جواب دیتے ہیں اور لفظی معنے لکھ کر آیتیں دکھلاتے ہیں۔اور دونوں قسم کی شفاعتوں کا قرآن سے ثبوت دیتے ہیں۔شفاعت کے معنے سفارش۔صغریٰ کے معنے چھوٹی اور کبریٰ کے معنی بڑی۔شفاعتِ صغریٰ چھوٹی سپارش۔شفاعت کبریٰ بڑی سپارش۔ہاں نہیں سپارش بڑی۔چھوٹا اور بڑا ہونا ایک نسبتی امر ہے۔جیسے ایک اور تین۔ایک تین سے چھوٹا اور تین ایک سے بڑا۔اب قرآن سے ثبوت لیجئے اور ثبوت بھی کیسا جس میں یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ دونوں قسم کی سفارش آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حق میں ثابت ہے۔پہلے چھوٹی سفارش۔ ۔(نساء:۶۵) (توبہ:۱۰۳) دیکھو یہاں صرف منافقوں کے گروہ کی شفاعت کا تذکرہ ہے۔اس لئے یہ شفاعت صغریٰ شفاعت ہوئی اور کبریٰ شفاعت کا ذکر ان آیات شریفہ میں ہے جن کے ذریعے آپ بڑے جوش و خروش سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے گنہگار ہونے کا استدلال کرتے ہیں۔وہ آیات اس قسم کی ہیں۔(محمد:۲۰) (فصل الخطاب حصّہ دوم ایڈیشن دوم صفحہ۱۳۹،۱۴۰)