حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 565 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 565

اچھے بیج کا ضرور اچھا ہی پھل ہوتا ہے۔پولوس نامۂ رمیاں ۶ باب ۱۵ میں صاف فرماتے ہیں۔کہ تم فضل کے اختیار میں ہو۔پس تو کیا ہم گناہ کیا کریں۔اس لئے کہ ہم شریعت کے اختیار میں نہیں۔بلکہ فضل کے اختیار میں ہیں۔ایسا نہ ہو۔کیا تم نہیں جانتے۔کہ جس کی تابعداری میں تم اپنے آپ کو غلام کے مانند سونپتے ہو۔اسی کے غلام ہو۔جس کی تابعداری کرتے ہو۔خواہ گناہ کی۔جس کا انجام موت ہے۔خواہ فرماں برداری کی جس کا پھل راست بازی ہے۔بھلا کچھ شک ہے۔کہ درخت اپنے پھلوں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔بالکل سچ ہے کہ سچّا ایمان اچھے اور نیک اعمال کا باعث ہے اور کفر اقسام بدکاریوں کا مثمر۔انسان کی کمزوریاں کبھی اسے کفر کے باعث فضل کے لینے میں بدنصیب کر کے گناہ کا مرتکب بناتی ہیں۔اور غفلت کی حالت میں شیطان کڑوے بیج بوتا ہے۔متی ۱۳ باب ۲۵۔اس واسطے عادل خدا کی ذاتِ بابرکات نے اس کی تدبیر فرمائی۔۔(الاعراف:۹)   (مومن:۴۱) کیا معنی؟ کہ جب ایک انسان بد اور نیک اعمال دونوں قسم کے عملوں کا مرتکب ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ اُس میں ایمان اور اس کے مدّ مقابل کے بیج بوئے گئے ہیں۔اس لئے میزان کی ضرورت ہوئی۔تاکہ عدل کی صفت پوری ہو۔پس جس کے نیک اعمال بڑھ گے۔عدل اور رحم اس کا شفیع ہوا۔اور فضل و کرم سے ایسے شخص کا بیڑا پار ہو گیا۔سچ ہے بھلے اور چنگے کو طبیب کی ضرورت نہیں۔متی ۹ باب ۱۲۔اور جس کے اعمال نیک اور بد ملے جلے ہیں تو اس کیلئے بھی رحم اور کرم کا پلّہ امید ہے کہ فضل سے بھاری ہو جاوے۔فصل الخطاب حصّہ دوم ایڈیشن دوم صفحہ ۱۳۱۔۱۳۷) اس سوال کے جواب میں کہ ’’اگر شفیع کی ضرورت ہے تو اس کے شرائط اور وجہ خصوصیت کیا ہے‘‘ تحریر فرمایا:۔’’ شفیع کے شرائط وہی جانے جسے شفیع بنانا ہو۔یعنی خدا جس کے رحم اور کرم اور فضل نے شفیع بنایا ہو۔اِلَّا جہاں جہاں شفاعت کا ثبوت ہے۔وہاں وہاں قرآن نے وہ شرائط بتلا دیئے ہیں۔غور کرو۔انبیاء اور ملائکہ کی شفاعت اُسی کے رحم اور فضل سے ہے۔اور اسی کے اذن اور اجازت سے دیکھو۔۔ ۔(انبیاء:۲۷،۲۸)