حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 564
ہاں اتنی بات رہی کہ خداوندی فضل کو کون چیز جذب کرتی ہے۔اور کس کے ذریعہ ہم محض فضل سے نجات پا سکتے ہیں۔تو اس کا جواب یہی ہے کہ ایمان فضلربّانی کو جذب کرتا ہے۔قرآن فرماتا ہے۔ ۔(نساء:۱۷۶) اس آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ان کو خداوند کریم فضل و رحمت میں داخل کرے گا۔عہد جدید بھی یہی کہتا ہے۔دیکھو نامۂ رومیاں ۳ باب ۲۸۔کیونکہ ہم نے یہ نتیجہ نکالا ہے۔کہ آدمی ایمان ہی سے بے اعمال شریعت کے راست باز ٹھہرتا ہے اور نامۂ رومیاں ۴ باب ۳۔فرشتہ کیا کہتا ہے۔یہی کہ ابراہام خدا پر ایمان لایا اور یہ اس کیلئے راست باز ی گِنا گیا۔نجات اور فضل اور ایمان کی مثال بعینہٖ ایسی ہے کہ ایک شخص جس کی آنکھیں تندرست ہیں۔ایک ایسے مکان میں جو بالکل بند ہے بیٹھا ہے اور کہیں اُس مکان میں روشنی آنے کا راستہ نہیں۔اب اس شخص کو ایک نہایت عزیز اور پیارے دوست کا دیدار مطلوب ہے اور وہ دوست بھی اس مکان میں موجود ہے۔اور ظاہر ہے کہ روشنی کے بدوں اپنے دوست کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا اور اس دوست کے دیدار سے اس طالبِ دیدار کے دل اور روح کو کوئی راحت نہیں مل سکتی۔جب تک روشنی نہ آوے۔اور دوست کا چہرہ نہ دکھلاوے۔روشنی لینے کے مختلف ذریعے ہیں۔یا تو اس مکان میں روشندان نکالے یا چراغ وغیرہ سے کام لے۔غرض کوئی چیز روشنی کی جاذب ہی نہیں تو روشنی دیدار لینے میں امداد نہ کرے گی۔گو روشنی فی الحقیقت دیکھنے کا آلہ ہے۔جب روشندان یاچراغ وغیرہ سے روشنی لے۔تو دوست کے دیدار سے وہ دیدار کا طالب آرام پا سکتا ہے۔ایسا ہی دیدار اور دیدار سے آرام تو نجات ہے۔اور وہ روشنی فضل اور کرمِ خداوندی ہے۔ایمان ایک روشندان یا چراغ ہے جو فضل کی روشنی کو کھینچتا ہے اور ایمان کو اس روشنی کا جاذب قرآن نے بھی کہا ہے۔ (بقرہ:۲۵۸) پس جس قدر مومن کا ایمان بڑھتا ہے۔اسی قدر وہ بڑے فضل کو جذب کرتا ہے۔اور اسے حاصل کرتا ہے جیسے جس قدر روشندان اور فتیلہ بڑا ہو گا۔اُسی قدر زیادہ روشنی کھینچے گا۔اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جب ایمان فضل کو بلاتا ہے اور فضل سے نجات ہے تو اعمال کیا ہوئے؟ کیا اعمال لغو اور بیکار ہوں گے؟ تو معلوم ہوا کہ سائل نے ایمان اور اعمالِ نیک کا تعلق نہیں سوچا۔کیونکہ نیک اعمال اور سچا ایمان ایک دوسرے کو لازم و ملزوم ہے۔سچّا ایمان نیک اعمال کا بیج ہے۔اور اچھے بیج کا ضرورہاں