حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 562 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 562

دوسری قسم گناہوں کی وہ کبائر اور بڑے بڑے گناہ جو شرک کے نیچے ہیں اور صغائر یا مبادی کبائر سے اوپر اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ ہر ایک کبیرہ اور بڑے گناہ کی ابتداء میں چھوٹے چھوٹے گناہ جو اس کبیرہ سے کم ہیںہوتے ہیں مثلاً جو شخص زنا کا مرتکب ہوا۔ضرور ہے کہ ارتکابِ زنا سے پہلے وہ اس نظر بازی کا مرتکب ہو جس سے زناکے ارتکاب تک نوبت پہنچی۔یا ابتدائً وہ باتیں سنیں جن کے باعث اس بدکاری کے ارتکاب تک اس زناکنندہ کی نوبت پہنچی۔ایسے ہی ان باتوں کا ارتکاب جن کے وسیلے سے اس کو وہ شخص ملا۔جس سے زانی نے زنا کیا اور بالکل ظاہر ہے کہ ان ابتدائی کارراوئیوں کی برائی زنا کی برائی سے ضرور کمی پر ہے۔ایسے کبائر اور بڑے گناہوں کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے۔(نساء:۳۲) کیا معنی ؟ جن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے تم لوگ منع کئے گئے۔اگر ان بڑے گناہوں سے بچ رہو تو ان کے مبادی اور ان کے حصول کی ابتدائی کارروائی صرف ان بڑے گناہوں سے بچ رہنے کے باعث معاف ہو سکتی ہے۔مثلاً کسی شخص نے کسی ایسی عورت سے جماع کرنا چاہا جو اس کے نکاح میںنہیں اور اس عورت کے بلانے پر کسی کو ترغیب دی یا کچھ مال خرچ کیا۔اور اُسے خالی مکان میں لایا اور اُسے دیکھا۔بلکہ اس کا بوسہ بھی لے لیا۔لیکن جب وہ دونوں برضا و رغبت برائی کے مرتکب ہونے لگے اور کوئی چیز روک اور بدکاری کی مانع وہاں نہ رہی اور اس بدکارروائی کا آخری بد نتیجہ بھی ظاہر نہ ہوا تھا کہ اس زانی کے ایمان نے آ کر اسے زنا سے روک دیا۔اب یہ شخص باایں کہ مال خرچ کر چکا ہے یا ثانی کی رضا مندی پا چکا۔صرف ایمان کے باعث ہاں صرف ایمان ہی کے باعث اور خدا سے باہمہ وسعت و طاقت اس بڑی بُرائی کے ارتکاب سے ہٹ گیا اور اسکا مرتکب نہ ہوا۔تو صرف اسی اجتناب سے اس کی ابتدائی کارروائیاں جو حقیقت میں مبادی گناہ اور گناہ کی محرّک تھیں معاف ہو جائیں گی۔کیونکہ اس کا ایمان بڑا تھا۔جس نے آخری حالت میں خدا کے فضل سے دستگیری کی۔اور تیسری قسم گناہ کی صغائر ہیں۔جن کا ذکر کبائر میں ضمناً آ گیا۔ناظرین ! نجات صرف رحم اور فضل سے ہے اور رحم اور فضل کا مستحق ایماندار ہے۔(الاعراف:۵۷) اور ایمان کے پھل نیک اعمال ہیں۔پس کل اعمال یا اکثر اعمال اگر عمدہ ہیں تو معلوم ہوا۔کہ اُن عمدہ اعمال کے عامل کا ایمان بڑا اور قوی تھا۔جب ایمان بڑا اور قوی ہوا۔تو بہت بڑے فضل کا جاذب ہو گا اور اگر نیک اعمال کے ساتھ تیسری قسم کے چھوٹے بداعمال یا چھوٹے بڑے دونوں قسم کے بُرے اعمال مل گئے تو ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے ایمان میں بمّد مقابل کچھ کفر بھی ہے۔جس کے بدثمرات یہ معاصی چھوٹے اور بڑے ہیں۔کیونکہ ایمان