حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 559
ہماری نسبت بھی ہے اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔تو گویا جیسے ہم نے خدا کے پاس جانا ہے ویسے ہی مسیحؑ بھی خدا کے پاس ہیں اور اس سے وفات ثابت ہوئی۔چہارمؔ۔اس سورۃ میں جیسے اِنَّہٗ یہاں آیا ہے ویسے ہی اور جگہ بھی آیا ہے۔اور وہاں اکثر جگہ قرآن شریف مراد ہے۔تو یہ معنے ہوئے کہ قرآن شریف قیامت کی بات کا خوب علم بتاتا ہے اور یہ بالکل سچ ہے۔پنجم ؔ۔کیا وجہ ہے کہ اِنَّہٗ کی ضمیر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف نہ پھیری جاوے حالانکہ آپ نے دو انگلیوں کو ملا کر کہا بُعِثْتُ اَنَا وَ السَّا عَۃُ کٰھَاتَیْنِ اب کیا ضرورت ہے کہ ابنِ مریم جو کہ آپ کے پیشتر ہوا۔اُسے ساعت کا علم کہا جاوے اور آنحضرتؐ جو بعد ازاں۔گویا عیسٰیؑ کی نسبت قیامت سے بہت قریب ہوئے ان کو نہ کہا جاوے۔(بدر ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۳۰) ۷۰۔ : ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۰۔۴۸۱ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۷۱۔ داخل ہو جاؤ جنّت میں اور تمہاری بیبیاں بڑی خوشی اور امن میں۔(نور الدین طبع سوم صفحہ۴۷) ۷۲۔ : اور تمہارے لئے اس میں وہ چیزیں ہیں جو نفس چاہتا ہے اور آنکھیں مزہ لیتی ہیں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۸۳) ۸۶۔