حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 554
ر نہیں رکھا اور خود ہم نے اس کی تقسیم کی ہے۔پس جب ان کو علم ہے کہ خدا کے ارادہ سے سب کچھ ہوتا ہے تو پھر انبیاء اور ان کے خلفاء کا انتخاب بھی اس کے ارادہ سے ہونا چاہیئے۔(الحکم ۱۰؍جنوری۱۹۰۵ء صفحہ۱۱) ہمارے سید ابن ابراہیم علیہما الصلوٰۃ والسلام کی نسبت جب آپ کے پہلے مخاطبوں میں سے چند نا سمجھ اور ناعاقبت اندیشوں نے اسی قسم کا اعتراض کیا تھا تو وہ دو گروہ تھے۔عرب کے قدیم باشندے اور یہود… عربوں کے سوال کو اس طرح نقل کیا ہے۔ اور عربوں نے کہا یہ قرآن مکّہ اور طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اترا اور جواب میں فرمایا ہے۔۔(زخرف:۳۳) قرآن کا نازل ہونا۔قرآن کالا نے والا ہونا تو اﷲتعالیٰ کا فضل ہے۔وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ دنیا کے گزارے میں یہی تو ہم نے ہی تقسیم کر رکھی ہے اور بعض کو بعض پر مختلف درجوں کے فضائل دے کر عزت بخشی ہے تو کہ ایک دوسرے کے کام آویں۔بادشاہ رعایا کا خادم اور رعایا بادشاہ کی خدمت گزار۔جب ظاہری دنیا و دولت کی تقسیم ان لوگوں کی تجویزوں پر نہیں تو نبوّت و رسالت والا تو ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔جس کو یہ لوگ جمع کرتے ہیں کیا اس رحمت و فضل کو یہ لوگ اپنے ناقص عقل پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔اس سوال و جواب میں ایک لطیفہ غور کے قابل ہے۔اُمّی۔ان پڑھ۔عربوں نے یہ تو نہ کہا کہ رسول کیوں ہوا؟ اور اﷲ تعالیٰ نے کیوں رسول کر کے بھیجا؟ کیونکہ آخر اتنی تو سمجھ رکھتے تھے۔کہ رسولوں کا آنا۔ملہموں کا پیدا ہونا بے وجہ نہیں۔ضرور ان کا بابرکت وجود برکات کا مُثمِر ہے مگر یہ کہا کہ رسولوں کا آنا بیشک ضروری اور فضل ہے۔پر جن پر دنیوی فضل ہو رہا ہے وہی اس روحانی فضل کے مورَد کیوں نہ ہوئے۔اگر امیر ہی رسول ہوتے تو بڑی کامیابی ہو جاتی۔پادریو۔آریو۔کاش تم اتنی عقل رکھتے اور جواب سے یہ ظاہر کیا جب دنیوی ترقیات کو دیکھتے ہو کہ بعض ترقی کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ گئے ہیں اور بعض سخت تنزّل میں گرفتار۔پس روحانی معاملات کو دنیا کے حال پر کیوں نہیں قیاس کرتے؟ جیسے دنیاوی عزتوں کی تقسیم الہٰی ارادوں اور اس کے قدرتی اسبابوں سے ہو رہی ہے۔اور تمہاری عقلیں وہاں پوری حاوی نہیں۔ایسے ہی روحانی عزت بھی جس کا اعلیٰ حصّہ نبوّت و رسالت ہے۔تمہاری غلط منطق سے کسی کو نہیں مل سکتی۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۹۳۔۲۹۵)