حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 542 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 542

۳۸۔   اور اس کے نشانوں سے ہے رات۔دن۔سورج اور چاند۔مت سجدہ کرو سورج اور چاند کو بلکہ اﷲ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔( تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۵۴) اﷲ کا علم ایسا وسیع ہے کہ بشر اس کے مساوی ہو ہی نہیں سکتا۔جو نشان اﷲ تعالیٰ نے اپنی الوہیت کیلئے بطور نشان رکھے ہیں وہ کسی اور میں نہیں بنانے چاہئیں۔بڑا نشان تذلّل کا ہے۔سجدہ۔اس سے بڑھ کر اور کوئی عاجزی نہیں۔زمین پر گر پڑے۔اب آگے اور کہاں کدھر جاویں۔فرماتا ہے۔۔پس جو غیر کو سجدہ کرے وہ مشرک ہے۔حنفی مذہب میں یہ معرفت کا نکتہ ہے کہ رکوع کو بھی سجدہ میں داخل کر لیا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ آیت سجدہ پڑھ کر رکوع چلے جانا بھی مِنْ وَجْہٍ سجدہ ہے۔اسی واسطے وَ کے ساتھ نہیں آتا۔الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ آیا ہے۔اردو میں ایک مصرعہ سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے ہاتھ باندھ کر بہیئت صلوٰۃ کسی کے سامنے کھڑے ہونا اور امید و بیم کے لحاظ سے اس کی وہ تعریفیں (جو خدا تعالیٰ کی کی جاتی ہیں) کرنا بھی شرک ہے۔اور کسی سے سوائے اﷲ کے دعا مانگنا بھی۔ہاں دعا کروانا شرک نہیں ہے۔(بدر ۱۳؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ۲) ۴۱۔   : کسی اسمِ الہٰی کی تکذیب کرتے۔استہزاء کرتے۔تحریف کرتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۷۹ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء)