حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 540
کوئی کام بدوں اسباب اور عِلَل کے نہیں ہوتا۔تو نیک اور بد ارادے کی تحریک کیوں ہوئی؟ اس مُحرِّک کو ہماری شریعت میں فرشتہ کہتے ہیں۔ہم اسی پر قناعت کرتے اور نیکی کے محرّک کا نام فرشتہ رکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ملائکہ و شیاطین کو ہر وقت انسان کے دل سے تعلق رہتا ہے۔اور موقعہ پر تحریکیں کرتے ہیں۔اگر وہ تحریک نیکی کی ہے تو فرشتہ کی طرف سے ہے اور بتدریج پھر وہ تحریک ہوتی اور بڑھتی جاتی ہے۔اور وہ انسان اس میں لگ پڑتا ہے۔یہاں تک کہ اس کے ملائکہ اور شیاطین میں جنگ ہو پڑتی اور ملائکہ جیت جاتے اور پھر وہ شخص فرشتوں سے مصافحہ کر لیتا ہے اس کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا۔…الآیہ پس ایسے لوگوں پر پھر ملائکہ نازل ہوتے اور خدا کہتا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔مت غم کھاؤ۔پس اس طرح ملائکہ کا ماننا بھی نیکی سکھلاتا اور بدی سے روکتا ہے۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ۱۱) ۳۴۔ اس شخص سے بھلی بات کس کی۔جس نے لوگوں کو اﷲ کی طرف بلایا اور اچھے کام کئے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۷۹) ۳۵،۳۶۔