حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 536
ہفتم۔اس لئے کہ اﷲ تعالیٰخَالِقُ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتِ۔معطّل بیکار نہیں۔وہ ہمیشہ اپنی کاملہ صفات سے موصوف ہے۔ایسا کیوں مانا جاوے کہ تمام اشیاء کو ایک آن میں پیدا کر کے پھر معطّل ہو گیا۔بلکہ وہ ہمیشہ خالق ہے۔اور مخلوق کا حافظ ہے اور رہے گا۔ہشتم۔اس لئے کہ یومؔ عربی زبان میں مطلق وقت کو کہتے ہیں پس سِتَّۃِ اَیَّامٍکے یہ معنے ہوں گے۔چھ وقت میں۔چاہو وہ وقت ایک آن کَلَمْحِ الْبَصَر۔لو۔چاہو تو وہ ایک ایک یوم لاکھوں کروڑوں برس کا یومؔ جیسے راقم کا اعتقاد ہے۔سمجھو۔نہم۔اس لئے کہ یومؔ عربی زبان میں اس زمانہ اور وقت کو بھی کہتے ہیں جس میں کوئی واقعہ گزرا۔گو وہ واقعہ کتنے بڑے وقت میں گزرا ہو۔یوم بُعاثؔ۔یوم حنین۔یوم بنو بکر۔یوم بسوس۔یوم عاد وغیرہ وغیرہ۔اس زمین و آسمان وغیرہ کی پیدائش کے زمانہ کو اس محاورہ پر یوم کہا گیا۔دہم۔اس لئے کہ۔پدارتھ وِدّیا یعنی علم طبعیات۔خصوصًا علم طبقات الارض سے ثابت ہو چکا ہے یہ زمین کسی زمانہ میں آتشیں گیاس تھا بلکہ یوں کہیے کہ ایک ستارہ روشن تھا۔جب قدرتی اسباب سے اﷲ تعالیٰ نے اس میں کسی قدر کثافت پیدا کر دی تو یہ زمین اس وقت ایک سیال مادہ ہو گیا۔جسے عربی زبان میں اَلْمَآء کہتے ہیں۔اور اس پر اس وقت ہوا چلا کرتی تھی۔جسے توریت شریف کی کتاب پیدائش کی پہلی آیتوں میں لکھا ہے۔پھر جب وہ اَلْمَآء زیادہ کثیف ہو گیا تو اس پر وہ حالت آ گئی۔جس کے باعث اس پر زمین کا لفظ بولا گیا۔پس ایک دن اس پر وہ تھا کہ یہ زمین سیال ہوئی۔اور دوسرا دن وہ آیا کہ کثیف ہو گئی۔طبقات الارض سے یہ امر بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ جس قدر زمین کے نیچے مرکز کی طرف کھودا جاوے۔زمین کی گرمی بہ نسبت بالائی سطح کے نیچے کو بڑھتی جاتی ہے حتّٰی کہ اب بھی چھتیس میل کی دُوری پر ایسا گرم مادہ موجود ہے جس کی گرمی تصوّر سے باہر ہے۔اس زمانہ سے بہت عرصہ پہلے جب اسکا بالائی حصّہ کثیف ہونا شروع ہوا تھا۔ایک دن اس ہماری آرام گاہ وہ پر گزرا تھا کہ اس زمین کی بالائی نہایت پتلی سطح کے نیچے اس مادہ کا آتشیں سمندر موجیں مارتا تھا اور اسکی بالائی باریک سطح کو توڑ توڑ کے بڑے راکس ۱؎ اور بڑے بڑے حجری قطعات باہر نکلتے تھے اور پہاڑوں کا سلسلہ پیدا ہوتا جاتا تھا اور ظاہر ہے کہ اس وقت بڑے بڑے زلزلے اور بھونچال ہوتے تھے۔جب بڑے بڑے پہاڑ پیدا ہو گئے اور زمین کا بالائی حصّہ زیادہ موٹا ہو گیا۔پھر تیسرا اور چوتھا دن یا تیسرا اور چوتھا وقت اس کرّہ ارضی پر وہ آیا کہ نباتات۔جمادات۔پھل۔پھول وغیرہ اشیاء