حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 535
، ضروریہ علوم اور قانونِ قدرت کے مستحکم انتظام نے نہیں جھٹلایا۔دومؔ۔اس لئے کہ جن لوگوں نے یہ خبر دی ہے ان میں سے ایک کا نام سیّدنا موسٰی علیہ السلام ہے اور دوسرے کا نام سیّد نا محمد بن عبداﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہے اور ان لوگوںنے یوں کہا ہے کہ ہم کو اﷲ تعالیٰ نے یہ خبر دی۔اور اسی کے مکالمہ سے یہ بات ہمیں معلوم ہوئی۔ان خبردہندوں کی امداد اﷲ تعالیٰ نے جیسے کی ہے اس کی خبر دنیا سے مخفی نہیں۔اور جو تعجّب انگیز کامیابی ان لوگوں کو ہوئی۔اس کی نظیر مدعیانِ الہام میں کوئی نہیں دکھا سکتا۔انصاف کرو کیا جنابِ الہٰی کی پاک اور مقدّس بارگاہ سے جھوٹوں کو ایسی امداد مل سکتی ہے۔سومؔ۔اس لئے کہ جس کتاب میں یہ خبر دی گئی ان کا من جانب اﷲ ہونا بہت وجوہ سے ثابت کیا گیا۔چاہے اسکا نام توریت لو۔چاہو قرآن کریم کہو۔چہارمؔ۔اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ کے اکثر بلکہ تمام کام جن کو ہم دیکھتے ہیں۔آہستگی اور تدریج سے ہوا کرتے ہیں۔بقدر امکان اپنے ارد گرد کا کارخانۂ قدرت دیکھ لو۔پھل دار درخت کتنے دنوں میں پھل دار کہلا تا ہے۔گھوڑے اور ہاتھی کا آج پیدا ہوا بچہ کتنے دنوں میں اﷲ تعالیٰ اس کو ہماری سواری کے قابل بنائے گا۔آدمی کا وہ بچّہ جو آجکل ماں کے رحم میں یا باپ کے جسم میں آرام گزیں ہے۔اﷲ تعالیٰ اس کو کتنے دنوں میں عالم فاضل اور ریفارمر کرے گا۔پس جب ایسے کام جو بتدریج ہو رہے ہیں اسی قادرِ مطلق۔سرب شکتیمان۔کُنْ کے کلمہ کے ساتھ پیدا کر سکنے والے کی پیدائش ہے تو زمین و آسمان اور اس کے درمیانی اشیاء کا چھ روز میں پیدا ہونا کیوں محلِّ انکار ہے؟ ٌٌٌََپنجم ؔ: اس لئے کہ زمین۔آسمان اور ان دونوں کی درمیانی تین چیزیں ہیں اور ان کی بناوٹ دو طرح پر ہے۔اوّل۔ان اشیاء کی اصل بناوٹ۔دومؔ۔ان کی ترتیب۔پس یہ چھ چیزیں ہوئیں۔جو چھ یوم میں پیدا ہوئیں یہاں یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آریہ نے بھی تمام مخلوق کے اصول اشیاء چھ چیزوں کو مانا ہے۔ارضی اشیاء چہار۔جن کو اربعہ عناصر یا چارتت کہتے ہیں۔اور سماوی چیزیں دو۔زمین کی چار چیزیں۔مٹی ۱۔پانی ۲۔آگ ۳۔ہوا ۴۔سماوی دو چیزیں۔اکاش جسے سماء یا السّماء کہئے۔اور دوسری رُوح جسے جیو کہتے ہیں قرآن کریم میں ایک جگہ کچھ تفصیل کی گئی ہے اسے بھی سُنو۔ …۔(حٰمٓ السجدۃ:۱۰ـ۔۱۳) ششم ؔ۔اس لئے کہ ان چیزوں کے بنانے میں یہ نہیں فرمایا کہ تمام تمام دن اور رات میں ان اشیاء کو پیدا کیا۔بلکہ یہ فرمایا ہے۔کہ چھ روز میں یہ چھ چیزیں پیدا کیں۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایک چیز ایک ایک روز میں۔ایک آن کے اندر کلمہ کُنْ سے پیداہوئی۔