حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 534
تو کہہ۔کیا تم ایسے خدا کا کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اسکے شریک مقرر کرتے ہو۔یہی تو عالموں کا پروردگار ہے۔پھر اس پر پہاڑ بنائے اور زمین کو برکت دی اور اشیائے خوردنی کے اس میں اندازے باندھے۔یہ سب کچھ چار دن میں ہوا۔حاجت مندوں کیلئے سب سامان درست ہو گیا۔پھر سماء کی جانب متوجّہ ہوا اور وہ دخان تھا ( یعنی اسے ٹھیک کیا) پھر اسے اور زمین ( دونوں) کو کہا کہ خواستہ یا نخواستہ تم دونوں حاضر ہو جاؤ۔انہوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں ( یہ ایک اندازِ محاورہ ہے جس کا مدعایہ ہے کہ یہ اشیاء ہمارے مطیع فرمان ہیں اور کبھی کس طرح ہمارے حکم سے انحراف کر نہیں سکتیں ) پھر ان کو سات سماء مقرر کیا دو دن میں اور ہر سماء کو اس کا متعلق کام سپرد کیا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۱۸) مسلمانوں کا اعتقادیہ ہے۔اَﷲُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ اس اعتقاد سے مٹی کا خالق بھی اﷲ تعالیٰ ہے۔اور مٹی کے مادہ کا خالق بھی وہی ہے۔مادہ اور روح کی تشریح جس قدر روحانی تربیت میں مفید ہے اس قدر قرآن کریم نے تشریح کر دی ہے۔اور جس تفصیل کی ضرورت روحانی تعلیم میں نہیں۔اس سے قرآن کریم نے سکوت فرمایا۔خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اگر روح کے معنے کلام الہٰی کے ہیں۔تو روح غیر مخلوق اور غیر مادی ہے۔یہ روح الہٰی صفت ہے۔اور مختلف اوقات میں اﷲ تعالیٰ کے پیارے بندوں پر نازل ہوتی رہی اور نازل ہوتی ہے۔اور نازل ہو گی اور اُن کے وساطت سے عام مخلوق الہٰی کے پاس پہنچی اور پہنچے گی۔اور رُوح کے معنی اگر ملائکہ اور انبیاء علیہم السلام کے لیں تو وہ مخلوق ہیں۔ایک وقت میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ مختلف اوقات اور انواع و اقسام کے مختلف اشیاء سے پیدا ہوا کئے۔انسانی جسمانی رُوح ایک قسم کی لطیف ہوا ہے جو انسان میں شریانی عروق اور انسانی پھیپھڑوں کے بن جانے اور قابلِ فعل ہونے کے وقت نفخ کے جاتی ہے اس مطلب کو سمجھنے کیلئے اﷲ تعالیٰ کی کتاب پر غور کرو۔یہ صادق کتاب حقیقت نفس الامری کی خبر دیتی ہے کہ انسان اسی نطفہ سے جو عناصر کا نتیجہ ہے۔خلق ہوتا ہے اور پھر یہیں اسے سمیع و بصیر یعنی مدرک اور ذی العقل بنایا جاتا ہے۔نہ یہ کہ پیچھے سے اپنے ساتھ کچھ لاتا ہے۔اور پرانے اعمال کا نتیجہ۔اس کے ساتھ چپٹا ہوتا ہے جس وہم و فرض کا کوئی مشاہدہ کا ثبوت نہیں۔… ایک مدّت تک مجھے تعجّب اور افسوس ہوا کہ تکذیب براہین کے مصنّف صاحب نے اس قدر طول۔طویل اعتراض آیت شریفہخَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ پر کیوں کیے اور میرے تعجّب اور افسوس کی کئی وجہیںہیں۔اوّلؔ۔اس لئے۔چھ دن میں زمین۔آسمان اور جو کچھ ان دونوں میں ہے۔اس کے پیدا ہونے کی خبر ایسے سچے لوگوں نے دی ہے جن کا صدق مختلف دلائل اور نشانات سے ثابت ہے اور اس خبر کو مشاہدہ