حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 504
۴۳۔ خدا جانوں کو جب ان کی موت کا وقت آتا ہے۔اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔یعنی وہ جانیں بے خود ہو کر الہٰی تصرّف اور قبضہ میں اپنی موت کے وقت آ جاتی ہیں۔اور زندگی کی خود اختیاری اور خود شناسی ان سے جاتی رہتی ہے۔اور موت ان پر وارد ہو جاتی ہے۔یعنی بکلّی وہ روحیں نیست کی طرح ہو جاتی ہیں اور صفاتِ حیات زائل ہو جاتی ہیں اور ایسی روح جو دراصل مرتی نہیں۔مگر مرنے کے مشابہ ہوتی ہے۔وہ روح کی وہ حالت ہے۔کہ جب انسان سوتا ہے۔تب وہ حالت پیدا ہوتی ہے۔اور ایسی حالت میں بھی روح خدا تعالیٰ کے قبضے اور تصرّف میں آ جاتی ہے۔اور ایسا تغیّر اس پر وارد ہو جاتا ہے۔کہ کچھ بھی اس کی دنیوی شعور اور ادراک کی حالت اس کے اندر باقی نہیں رہتی۔غرض موت اور خواب دونوں حالتوں میں خدا کا قبضہ اور تصرّف روح پر ایسا ہو جاتا ہے کہ زندگی کی علامت جو خود اختیاری اور خودشناسی ہے۔بکلّی جاتی رہتی ہے۔پھر خدا ایسی روح کو جس پر درحقیقت موت وارد کر دی ہے۔واپس جانے سے روک رکھتا ہے۔اور وہ روح جس پر اس نے درحقیقت موت وارد نہیں کی اس کو پھر مقرر وقت تک دنیا کی طرف واپس کر دیتا ہے۔اس ہمارے کاروبار میں ان لوگوں کیلئے نشان ہیں۔جو فکر اور سوچ کرنے والے ہیں یہ ہے ترجمہ مع شرح آیت ممدوحہ بالا کا۔اور یہ آیت موصوفہ بالا دلالت کر رہی ہے۔کہ جیسی جسم پر موت ہے۔روحوں پر بھی موت ہے۔لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ ابرار اور اخیار اور برگزیدوں کی روحیں چند روز کے بعد پھر زندہ کی جاتی ہیں۔کوئی تین دن کے بعد۔کوئی ہفتہ کے بعد۔کوئی چالیس دن کے بعد۔اور پلید روحوں میں بھی عذاب دینے کیلئے ایک حِس پیدا کی جاتی ہے مگر نہ وہ مُردوں میں داخل ہوتے ہیں نہ زندوں میں۔جیسا کہ ایک شخص جب سخت درد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بدحواسی اس کیلئے موت کے برابر ہوتی ہے۔اور زمین و آسمان اس کی نظر میں تاریک دکھائی دیتے ہیں۔انہی کے بارے میں خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم ہو کر آئے گا اس کیلئے جہنم ہے وہ اس جہنم میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا ( طٰہٰ:۷۷) اور خود انسان جب اپنے نفس میں غور کرے کہ کیونکر اس کی رُوح پر بیداری