حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 489
دُور کا غوطہ لگانے والوں کو کہتے ہیں۔شریر آدمی بھی قید ہو سکتے ہیں اور ہنرور بھی۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) پس مفت کام میں لگا دی سلیمان کے ہوا۔نرم چلتی اس کے (اﷲکے)حکم سے جہاں پہنچنا چاہتا۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۶۲) قرآن کریم میں حضرت سلیمانؑ کے قصّہ میں یہ الفاظ کس قدر وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کا سفر بادی جہازوں کے ذریعہ ہوتا تھا چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے ہوا کو اس کے کام میں لگایا۔وہ اس کے حالات اور مقاصد کے موافق چلتی تھی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے جہازوں کے سفر میں بادِ موافق چلا کرتی تھی۔اور اس کے سفر میں کامیابی اور شاد کامی کو ہمراہ لئے ہوتی تھی۔اور جیسا کہ آجکل یورپ کے سٹیمر باوجود قسم قسم کے بچاؤ کی تدابیر کے آئے دن سمندر کی خونخوار موجوں کے لقمۂ تر بنتے ہیں۔حضرت سلیمانؑ کو اس کے خلاف کبھی تباہی پیش نہیں آئی۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ۱۶۰۔۱۶۱) ۴۲۔ تین علم عبرت کیلئے لوگوں نے تصنیف کئے ہیں ان میں سے ایک علم تاریخ ہے۔اس علمِ تاریخ کے لکھنے میں بھی مسلمانوں نے سب سے زیادہ کوشش کی ہے۔مسلمانوں اور عیسائیوں کی علمِ تاریخ میں یہ فرق ہے کہ عیسائی کسی واقعہ کو دیکھ کر اس کا سبب بھی خود تلاش کرتے ہیں حالانکہ ضرور نہیں کہ وہ اصل سبب اس واقعہ کا ہو۔دوسرا نقص یہ ہے کہ وہ اپنے ملک پر سب کا قیاس کر لیتے ہیںحالانکہ ہر ملک میں کچھ نہ کچھ مبالغہ ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ زیادہ ہے۔اب وہاں بھی یہ نقص عام پیدا ہوا ہے کہ ناول کو بھی اصل واقعہ سمجھتے ہیں۔ہمارے مؤرخین زیادہ تر شیعہ ہیں۔شیعوں میں تقیّہ جائز ہے۔پھر اس تقیّہ کی ان کو خوب مشق