حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 484 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 484

: ان کے دشمن کی خبر بھی ہے ؟ کہ دشمن اس قلعہ اور فصیل پر بھی کود پڑے۔تمہارے پاس تو کوئی قلعہ اور فصیل بھی نہیں ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) : فرماتا ہے بایں ہمہ ساز و سامان حضرت داؤد پر دشمن نے حملہ کر دیا تھا۔اور آپ کے پاس ( اے نبی) کوئی قلعہ وغیرہ نہیں۔اﷲ حافظ ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۷۔۴۷۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) حضرت داؤد خلیفۃ اﷲ کا مقابلہ بعض ناعاقبت اندیشوں نے کرنا چاہا۔یہاں تک کہ وہ دیواریں پھاند کر ان کے قلعہ میں گھس آئے۔مگر چونکہ اﷲ تعالیٰ جن کو خلعتِ خلافت سے سر فراز فرماتا ہے۔اُن کو ایک خاص رعب و داب بھی دیتا ہے۔اس لئے وہ داخل ہوتے ہی ایسے گھبرائے کہ سوائے ایک جھوٹا قصّہ تراشنے کے کچھ بن نہ آیا۔چنانچہ قرآن کریم میں ذکر آیا۔۔( :۲۲،۲۳)(اور کیا ان دشمنوں کی خبر پہنچی۔جب وہ محراب میں دیوار کود کر آئے۔جب داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے ڈرا۔انہوں نے کہا۔نہ ڈر۔دو دشمن ہیں۔زیادتی کی ہے ایک نے دوسرے پر) آخر یہ دشمن بھی لعنتی ہی بنے چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (المائدہ:۷۹)لعنتی ہوئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل سے داؤداور عیسٰی بن مریم کی زبان پر۔یہ اس لئے کہ انہوں نے سرکشی کی اور حد سے بڑھتے تھے۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۱۱ صفحہ۴۳۲۔۴۳۳۔ماہ نومبر ۱۹۱۱ء) ۲۳۔   : ایک دفعہ دشمن حضرت داؤد پر اچانک کود پڑے۔یہ بھی مستعد بیٹھے تھے۔جب ان دشمنوں نے دیکھا کہ یہ مستعد بیٹھے ہیں۔تو کہنے لگے کہ حضور ہم ایک مقدمہ فیصل کرانے آئے ہیں۔گھبرا کے کہتے ہیں کہ آج ہی فیصل کر دیجئے۔تاریخ کو بڑھایئے نہیں۔جھگڑا یہ ہے کہ اسکی سو دنْبیاں ہیں۔دیکھو