حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 485

کیسا جھوٹا مقدمہ بنا لیا۔لیکن انبیاء کیسے رحیم و کریم ہوتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ اس نے ظلم کیا ہے کہ تمہاری ایک دُنبی کو مانگتا ہے۔باوجودیکہ اس کے پاس ہیں۔اب حضرت داؤدؑ کو فکر ہوا۔کہ ہمارے ملک میں بڑا فتنہ ہے۔یہاں تک کہ لوگ ہم پر بھی حملہ آور ہونے لگے۔تب انہوں نے جنابِ الہٰی میں دعا کی۔ہم نے حکم دیا۔کہ داؤد تُو کوئی اپنی کوششوں سے خلیفہ ہوا؟ ہم نے تجھ کو خلیفہ بنایا۔اس سے بڑی نصیحت یہ نکلتی ہے کہ حوصلہ کرو اور دشمن کو حوالۂ بخدا کرو۔دعائیں مانگو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) ۲۵۔    سورۃ جنّ میں چند آیات کے معانی نہ سمجھنے کی وجہ سے حضرت داؤدؑ پر تہمت لگا دی ہے کہ انہوں نے ایک بی بی کے خاوند کو جنگ میں بھجوا کر مروا دیا اور اسکی بی بی سے نکاح کر لیا۔اور فرشتے انہیں سمجھانے آئے حالانکہ یہ بات ہے کہ وہ ملائکہ نہیں تھے بلکہ دشمن تھے۔کہ دیواریں پھاند کر آپ کے مکان میں گھس آئے آپ بہت گھبرائے کہ ملک میں انارکسٹوں کا غلبہ ہے اور وہ یہاں تک دلیر ہو گئے ہیں کہ شاہی خیموں میں کود کر آنے میں تامّل نہیں کرتے۔مگر معاً شاہی رعب ان پر غالب آ گیا اور انہوں نے ایک جھوٹی بات بنائی۔آپ نے نہایت متانت سے انہیں جواب دیا اور کے یہ معنی ہیں کہ جب داؤد نے یقین کیا کہ رعایا میں بغاوت اور بدامنی کا زور ہے تو سمجھا کہ آخر کوئی کمزوری اور نقص ہے جس کی وجہ سے حکومت کے رعب و جلال میں فرق آ رہا ہے۔اس لئے خدا سے حفاظت طلب کی۔اور خدا کے حضور گر پڑے تو خدا نے آپکی حفاظت کی اور اپنے تسلّی بخش کلام سے ممتاز فرمایا۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔کہ خلیفہ تو ہم نے تجھے بنایا۔ان لوگوں کی شرارتوں کا کیا خوف اور کیوں پریشان ہوتے ہو؟ تم حق حق فیصلہ کرتے جاؤ اور عدل