حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 45 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 45

۹۶تا۹۸۔     کہا جو قدرت میرے ربّ نے مجھے دی ہے بہتر ہے۔تو تم مجھے صرف اپنے زور سے مد ددو۔مَیں تم میں اور اُن میں ایک موٹی دیوار بنا دوں گا۔تم میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لے آؤ۔آخر جب اُس نے دونوں پہاڑوں میں برابر کر دیا۔کہا دھونکو۔آخر جب اس کو گرم آگ سا کر دیا۔بولا میرے پاس لے آؤ میں اس پرپگھلا ہوا تانبا ڈالوں۔پھر اُن سے نہ ہو سکا۔کہ اس سے پھاند جا سکیں اور نہ بن ہی پڑا کہ اس میں چھید کر سکیں۔پس آخر یہ جنگ جُو قومیں نچلی نہ بیٹھ سکیں۔جرمن۔ڈنمارک اور سویڈن ناروے وغیرہ بلاد میں آہستہ آہستہ پھیل گئیں۔گاتھ قوم نے جزائر برطانیہ آباد کر لئے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۶۹۔۷۰) رَدْمًا: بڑی روک کی تجویز کرتے ہوئے کیقباد نے جو دیوار بنائی اس گاؤں کا نام موباس تھا۔قبّے بنائے تھے۔: یہ لوہا دروازوں کیلئے تھا اور تانبا اس لئے لگایا کہ مٹی نہ کھائے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۲) ۹۹۔  کہا یہ میرے ربّ کا احسان ہے۔پھر جب میرے ربّ کا وعدہ آیا۔اسے چُور چُور کر دے گا۔اور میرے ربّ کا وعدہ سچّا ہے۔