حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 476
یہ بڑا بھاری امتحان اور انعام ہے اور ہم نے اس کے عوض میں ایک بڑی قربانی کو فدیہ دیا۔اور آئندہ آنے والی نسلوں میں اس کا ذکرِ خیر باقی رکھا۔ابراہیم پر سلامتی۔ہم اسی طرح محسنوں کو بدلہ دیا کرتے۔وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا… قرآن… سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ بیٹے کو ذبح کرتے ہیں۔نہ یہ کہ ذبح کر دیا۔جیسے قرآنی لفظ گواہی دیتا ہے۔اس قابلِ قدر عرفان سے بھرے ہوئے واقعہ پر اعتراض بجز سیاہ دل۔کو رباطن۔حقیقت ناآشنا کے اور کون کر سکتا ہے۔سنو! ابراہیم علیہ السلام کی عمر اس وقت ننانوے برس کی تھی۔اور اسمٰعیل ؑ اس کے اکلوتے بیٹے کی ۱۳ برس کی۔اتنے عمر کے باپ کو آئندہ اور اولاد کی امید کہاں۔اور بیٹے کی امیدیں اور اُمنگیں مرنے کے بعد کہاں۔باپ کا اپنے خواب کے خیال کو اظہار کرنا اور بیٹے کا یہ کہہ دینا اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُسچّی الہٰی محبت کا نشان ہے۔جس کی قدر بدوں زندہ دل کے کون کر سکتا ہے۔اس بات کو ہم قربانی کے مسئلہ میں کسی قدر تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا جلد ۱ صفحہ نمبر ۵۵ میں ہے۔کنعانیوں میں جو قدیم باشندے فلسطین کے تھے۔انسانی قربانی کا رواج تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جوان میں مانے ہوئے بزرگ اور ذی رعب تھے۔باہمہ جاہ وحشمت بیٹے کی قربانی پر باایں کہ بیٹا بھی راضی ہو چکا تھا۔مینڈھا ذبح کر دیا اور اس طریق سے انسانی قربانی کی بجائے حیوانی قربانی قائم کر دی۔اور اب تک گویا کروڑوں جانوں کو بچا لیا۔بَارَکَ اﷲُ عَلَیْکَ یا اِبْرَاھِیْم۔(نورالدین ایڈیشن اوّل صفحہ۱۷۰۔۱۷۱) ۱۱۳،۱۱۴۔ : یہ غلام حلیم کے علاوہ دوسرے بیٹے کی بشارت ہے۔: اس اولاد ابراہیم پر جس کا نام اسمٰعیل تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۳) ۱۲۱۔ : اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِاﷲِ