حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 477 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 477

الصّٰلِحِیْنَ۔التحیات میں ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۳) ۱۲۶۔ : سورج کو بھی ایک دیوتا مانا گیا ہے۔سورج کی ہیکل کو بعل کہتے ہیں۔چاند کو وہ لوگ مؤنث سمجھتے تھے اور سورج کو مذکر۔بعل مرد کو کہتے ہیں۔: تمام اندازہ کرنے والوں سے خوبیوں میں بڑھ کر۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۳) ۱۴۰ تا ۱۴۴۔   صوفیوں نے لکھا ہے کہ یہ یونسؑ کا معراج ہے۔نینوا ایک شہر تھا۔ایک لاکھ بیس ہزار اس کی آبادی تھی۔وہ دارالسلطنت تھا۔حضرت یونسؑ وہاں بھیجے گئے۔آپ نے وعظ کیا۔لوگوں نے ممانعت کی تو حضرت یونسؑ نے کہا کہ تم پر عذاب آوے گا۔جب وہ دن آئے تو ایسی کچھ بات نکلی کہ ان کے دل میں خدا کی صفت رحمانیت کا جوش آگیا تو وہ سمجھے۔ممکن ہے۔اﷲ تعالیٰ عذاب ٹال دے۔اس لئے وہ علیحدہ ہو گئے۔ادھر لوگوں نے عذاب کے نشان دیکھتے ہی تضرّع و زاری شروع کر دی اور وہ عذاب ٹال دیا گیا۔جب حضرت یونسؑ نے سنا کہ عذاب نہیں آیا تو وہ لوگوں سے بھاگے۔کہ خواہ مخواہ خدائے کریم کی مصالح و غریب نوازیوں سے ناواقف لوگ اعتراض کریں گے۔: جو غلام بغیر رضا مندی اپنے آقا کے نکل جاوے۔اسے اٰبِق کہتے ہیں۔: قرعہ کس طرح ڈالا۔یہ میں نے قرآن و حدیث میں نہیں پڑھا۔: حدیثوں سے تو نہیں مگر تفاسیر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی ایڑی کو منہ میں لیا۔