حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 459
: برہمؤوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔یہ لوگ تمام راستبازوں کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ان کی گندی تعلیم سب سے زیادہ خطرناک ہے۔جن لوگوں نے سچائیوں کے پہچاننے کیلئے اپنے آرام۔اپنی اولاد۔اپنا جاہ و جلال۔اپنے وطن کو چھوڑ دیااور اپنی جانیں قربان کر دیں۔ان کو جھوٹ اور دروغ مصلحت آمیز سمجھنا حد درجہ کی بے باکی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۰) (کہف:۶) نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی صحبت میں چند گھنٹے ٹھہرنے والے کی نسبت بھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اس نے روایت میں جھوٹ بولا۔اور نہ دنیا کی مجموعی طاقت ایسے اتّہام کو ثابت کر سکتی ہے۔پس جس نبی میں یہ نور و ہدایت ہو کہ اس کی صحبت آدمی کو اعلیٰ درجہ کا راست باز بنا دے۔کیا وہ جھوٹا ہو سکتا ہے یا جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ بھی خدا پر۔خدا نے کچھ وحی نہیں کی۔اور وہ کہے مجھ پر وحی ہوئی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۰) ۱۸،۱۹۔ اَلْبَلٰغُ: کھول کر بات پہنچا دینا۔: بڑے بڑے دُکھ دیکھے ہیں۔تمہارے سبب سے۔واقعی جب نبی آتا ہے۔طاعون۔قحط۔ہیضہ اور ہر قسم کی بلائیں آتی ہیں۔اس میں ایک منشاء ایزدی ہوتا ہے۔وہ یہ کہ (انعام:۴۳) یعنی شوخی، بے باکی سے باز آ کر خدا کے حضور گریہ وزاری کریں۔(اعراف:۹۵) اس سے طائر کا مسئلہ بھی حل ہوتا ہے۔جہاں انسان جاوے اس کے ساتھ چیل کوّے جاتے نظر آویں تو یہ فتح مندی کا نشان ہے۔۲۔اسی طرح ہوا کا رُخ ادھر ہو جدھر سے یہ جاوے تو یہ بھی کامیابی کا تفاول ہے۔۳۔جانور بیٹھ جاوے جس پر سوار ہوں ( جیسا کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی اونٹنی حدیبیہ میں بیٹھ گئی) تو یہ بھی اچھا نشان ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۰)