حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 458 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 458

 ہزارہا لوگوں نے چائنا۔جاپان۔انگلینڈ کو نہیں دیکھا مگر وہ ان کی ہستی پر محض شنید سے یقین رکھتے ہیں بلکہ ان کے وجود پر قسم کھا سکتے ہیں۔پھر بعض واقعات کو صرف ایک گواہی پر تسلیم کیا جاتا ہے مثلاً کسی کا اپنے باپ کا بیٹا ہونا جس کیلئے صرف اسکی ماں کی گواہی ہے۔پھر فلاسفروں کے اقوال میں اتنا اختلاف ہے کہ کسی صورت میں نہیں ملتا۔مگر انبیاء کی جماعت ایسی جماعت ہے کہ باوجودیکہ وہ آپس میں نہیں ملے اور مختلف زمانوں میں ہوئے ہیں۔پھر بھی وہ ’’اﷲ ایک ہے ‘‘ پر اجماع رکھتے ہیں۔اس شہادت کو نہ ماننا کیسی بے ایمانی ہے۔ایک عورت کی گواہی مان لینے والے اتنی بڑی راست باز جماعت کی مجموعی گواہی کو نہ مانیں تو بہت بے انصافی ہے۔پھر وہ لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے خدا سے خود باتیں کی ہیں۔ان کی باتیں نہ مانیں مگر فلاسفروں کی باتیں باوجود اس قدر اختلاف کے مان لیں۔تعجّب ہے۔مَثَلاً: عجیب بات۔: مصر جس میں حضرت موسیٰ و ہارون گئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۰) ۱۵۔  : تیسرا عظیم الشان رسول بھجوایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۰) : تیسرا ( محمد مصطفیٰؐ) ایسا زبردست آیا کہ اس کی قوم سے کوئی لات و عزّٰی کا پرستار نہ رہا۔بلکہ تمام عرب مسلمان ہو گیا۔بلکہ تمام دنیا کے مذاہب کے معابد اسی کے نام پر فتح ہوئے ۱۔یوروشلم ۲۔آتش کدہ آذر ۳۔خانہ کعبہ۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۶ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۶۔