حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 451 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 451

تھا۔وہاں دیکھتا کہ لوگ مسجد کے ایک کونے میں صبح کی نماز پڑھ لیتے اور مسجد کے ملاّں کو نہ جگاتے کہ رات بھر مطالعہ کرتے رہے ہیں۔انہیں جگانے سے تکلیف ہو گی۔علم تہذیب النفس کیلئے تھا۔مگر لوگوں نے اسے تخریب نفس کاہلی اور سُستی میں لگا دیا۔دوسروں کی اصلاح کے دعویدار ہیں۔مگر خود اپنی اصلاح سے بے خبر۔(بدر ۲۱؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ۸) ۳۰۔  یَرْجُوْنَ: مومن وہی ہے جو ایسی تجارت کرے جس میں ٹوٹا نہیں۔عارضی و نمائشی چیزوں پر اتنا روپیہ نہیں صرف کرتا۔ایک بزرگ ایک دعوت میں گئے۔معمولی کپڑے تھے۔کسی نے نہ پوچھا۔پھر آپ خوب لباس پہن کر گئے تو سب نے تعظیم دی۔آپ بھی شوربہ وغیرہ کی رکابی اپنے چوغہ پر ڈالنے لگے۔حاضرین نے تعجّب کیا تو جواب دیا۔مجھے تو کسی نے پوچھا نہیں۔یہ دعوت تو میرے کپڑوں کی ہے۔انہی کو کھلاتا ہوں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۹) ۳۳۔   پھر وارث کیا ہم نے اپنی کتاب کا ان لوگوں کو جو برگزیدہ ہیں۔پس بعض ان میں سے ظالموں کا گروہ ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اور جبرواکراہ سے نفسِ امّارہ کو خدا تعالیٰ کی راہ پر چلاتے ہیں اور نفس سرکش کی مخالفت اختیار کر کے مجاہداتِ شاقہ میں مشغول ہیں۔دوسرا گروہ میانہ رو آدمیوں کا ہے جو بعض خدمتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفسِ سرکش سے بہ جبرواکراہ لیتے ہیں اور بعض الہٰی کاموں کی بجاآوری میں نفس ان کا بخوشی خاطر تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور شوق اور