حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 452
رمحبت اور ارادت سے ان کاموں کو بجا لاتا ہے۔غرض یہ لوگ کچھ تو تکلیف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کی راہ پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلّف کے اپنے ربّ جلیل کی فرماں برداری اُن سے صادر ہوتی ہے۔تیسرے سابق بالخیرات اور اعلیٰ درجہ کے آدمیوں کا گروہ ہے جو نفسِ امّارہ پر بکلّی فتح یاب ہو کر نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔غرض سلوک کی راہ میں مومن کو تین درجے طے کرنے پڑتے ہیں۔پہلے درجہ میں جب بدی کی عادت ہو تو اس کے چھوڑنے میں جان پر ظلم کرے اور اس قوّت کو دبا وے۔شراب کا عادی اگر شراب کو چھوڑے گا تو ابتداء میں اس کو بہت تکلیف محسوس ہو گی۔شہوت کے وقت عفّت سے کام لے اور قوائے شہوانیہ کو دبا وے۔اسی طرح جھوٹ بولنے والاسُست منافق۔راست بازوں کے دشمنوں کو بدیاں چھوڑنے کیلئے جان پر ظلم کرنا پڑے گا۔تاکہ یہ اس طاقت پر فاتح ہو جاویں۔بعد اس کے میانہ روی کی حالت آوے گی کبھی کبھی بدی کے چھوڑنے میں گو کسی وقت کچھ خواہش بد پیدا بھی ہو جاوے۔ایک لذّت اور سرور بھی حاصل ہو جایا کرے گا۔مگر تیسرے درجہ میں پہنچ کر سابق بالخیرات ہونے کی طاقت آ جاوے گی اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی بارش ہونے لگے گی اور مکالمہ الہٰی کا شرفعطا ہو گا۔(الحکم ۱۷؍ نومبر ۱۸۹۹ء صفحہ۲۔۳) ( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۹) ۳۴۔ : دنیا میں بھی اس جنّت کا نمونہ صحابہ ؓ نے دیکھا۔ان کو قیصر و کسریٰ کے گھرانوں کے زیور دیئے گئے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۹) مِنْ: یہ ایران کو فتح کرنے کی پیشگوئی ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۶ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۳۸۔