حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 42

پھر سامان کیا اور وہ دو ۲ خاص پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور ان پہاڑوں کے ورے ایک ایسی قوم کو پایا جو بات سمجھنے میں کمزور تھی۔تفسیر: یہ وہ مقام ہے جو ایران کے شمال میں در بند کر کے مشہور ہے اور اس کے قریب اب تک قبّہ نام ایک بستی اسی کیقباد خورس کے نام سے قرآن کی تصدیق کیلئے موجود ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۶۷،۶۸) : پہلے لوگ اپنے شہروں کی حفاظتیں دیواروں سے کرتے تھے۔جس کو فصیلِ شہر کہتے ہیں۔لاہور میں بھی فصیل تھی۔امرتسر کے گرد بھی فصیل و خندق تھی۔غرض یہ عام دستور تھا۔اس کے وسیلے سے دشمن سے بچے رہتے۔کیونکہ آجکل کے یہ خوفناک ہتھیار ان دنوں میں نہ تھے۔لَا: ان کی بولی مید و فارس کے لوگ اچھی طرح نہ سمجھ سکتے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۲) ۹۵۔  انہوں نے عرض کیا۔اے ذوالقرنین! یا جوج و ماجوج ہمارے ملک میں آ کر فساد کرتے ہیں ہم تجھ کو روپیہ دیتے جو تُو ان کے اور ہمارے درمیان ایک دیوار کھینچ دے۔تفسیر: یا جوج ما جوج کون ہیں؟ غور کرو۔روضۃ الصفّا کے خاتمہ پر لکھا ہے۔’’ اقلیم چہارم مشرق سے شمال چین سے گزر کر تبّت اور جبال کشمیر اور بدخشاں کے شمال سے اور بلادِیا جوج ما جوج کے جنوب سے مغرب کو چلی جاتی ہے۔‘‘ یہ تو اقلیم چہارم کا قصّہ مختصراً ختم ہوا۔اب لیجئے اقلیم ششم۔اس کی بابت لکھا ہے ’’ بلاد یا جوج و ما جوج سے یہ اقلیم ششم شمال میں ہے۔‘‘ پس ہر عاقل اب اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ بلاد یا جوج اور ما جوج اقلیم پنجم میں ہے۔پس جیسے شاہنامہ