حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 441 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 441

پادری صاحبان ! اگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مرگی کے مبتلا اور دیوانے تھے اور پھر اتنی دنیا پر ایسا قابو پا گئے تو سچ سمجھو بڑا معجزہ کر دکھایا۔معجزے کے کیا معنی؟ دوسرے کو عاجز کر دینے والا۔اتنی دنیا کے رسوم و عادات کو بدل دینا اور عرب کی متفرق جماعت کو ایک اسلام کے رشتے میں منسلک کر دینا اور سب کو اس کا مصدّق بنا دینا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔(فصل الخطاب حصہ اوّل ایڈیشن اوّل صفحہ۱۰۔۱۱) بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ:یہودی مسیحؑ کے وقت اتنا زور رکھتے تھے کہ پیلا طوس کو ان کے ماتحت کام کرنا پڑتا۔مگر ایک وقت آیا کہ یہودی انہیں عیسائیوں کے ہاتھ سے مذموم و مدحور ہو گئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۸) ۴۸۔  جو میں نے تجھ سے مانگا کچھ نیگ۔سو تمہیں کو پہنچے۔میرا نیگ ہے اسی اﷲ پر۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۳۷) ۴۹،۵۰۔  : حق کا ذریعے اس باطل کا سر توڑدے گا۔یہ پیشگوئی ہے۔اسی لئے  صفت کا ذکر ساتھ کر دیا۔مذہبوں میں اختلاف ہے مگر حق کا پانا کوئی ایسا مشکل امر نہیں۔مثلاً بُت پرست ہیں۔صرف اتنا غور کافی ہے کہ اﷲ کو چھوڑ کر جس کی پرستش کرتے ہیں۔وہ خود اپنے ہاتھ سے گھڑتے ہیں۔پھر نبیوں کے منکر ہیں۔وہ دیکھیں کہ نبی پہلے اکیلا ہوتا ہے۔اس کے ساتھ بھی غریب لوگ شامل ہوتے ہیں۔مگر ہر نبی ضرور اپنے بڑے بڑے مخالفوں کے مقابل میں کامیاب ہوتا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ راست بازوں کی جماعت حق پر ہے۔نبی پر جنون کا شبہ بہت ہی کمزور بات ہے۔کیا مجنون ایسی اعلیٰ تعلیم لا سکتا ہے اور ایسے قوانین