حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 440 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 440

والی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۷) ۴۷۔   منصف آدمی کو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صفات اور عادات پر غور کرنے سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ آپؐ کا دلی ارادہ کیا تھا۔مقصود بالذّات کیا امر تھا۔آپؐ کے افعال اور اقوال سے بقدر مشترک اتنا تو ثابت ہے۔کہ آپؐ دیوانے اور کم عقل نہ تھے۔بھلا اتنا بڑا کام ( عرب جیسے ملک سے بُت پرستی کا استیصال) کیا ایک کم عقل کا کام ہے۔خدا کیلئے ذرا یرمیاہ ۲ باب ۱۰ کو پڑھ لو۔کیا کہتا ہے۔قیدار میں جا کر خوب سوچو اور دیکھو۔ایسی بات کہیں ہوئی ؟ جیسی یہ بات ہے۔کیا کسی قوم نے اپنے الہٰوں کو جو حقیقت میں خدا نہیں بدل ڈالا؟ معلوم ہوتا ہے کہ یرمیاہ کے زمانے تک یہودی تعلیم کا اثر عرب پر نہیں پڑا اور کچھ نہیں پڑا۔پادریو! نبی کی ضرورت تھی یا نہ تھی؟ جانتے ہو قیدار کون ہیں۔قیدار اسماعیل بن ابراہیم کا بیٹا ہے۔یہاں اسی کی قوم کی نسبت فرماتا ہے بتاؤ عرب کی ایسی بُت پرست قوم کو کس نے خدا پرست بنایا؟ کیا کسی مرگی زدہ مجنون نے ؟ سبحان اﷲ! کس طرح فطرت کا خالق فطرت کی طرف متوجّہ کرتا ہے اور کہتا ہے۔ (سبا:۴۷) تو کہہ میں تو ایک ہی نصیحت کرتا ہوں تم کو۔کہ اُٹھ کھڑے ہو جو اﷲ کے کام پر دو دو اور ایک ایک، پھر دھیان کرو اس تمہارے صاحب ( رفیق) کو کچھ سودا نہیں ہے۔جنگل اور بیابان سے نکل کر بدوں سامان و اسباب اپنے دیکھتے دیکھتے ایک شخص ، صلی اﷲ علیہ وسلم دنیا کو اپنا ہم خیال بنا گیا۔ہزاروں ہزار مخلوق کو اپنے اوپر جان و مال سے فدا کر گیا۔نہ کسی نے تیس روپے پر پکڑوایا۔نہ کسی نے اسے ملعون کہہ کر انکار کیا۔سوچو۔متی ۲۶ باب ۱۶ و ۷۴