حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 424
۷۱،۷۲۔ (یہ آیت) حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اکثر اوقات نکاحوں کے وقت پڑھا کرتے تھے… نکاحوں کے معاملات میں بعض لوگ پہلے بڑے لمبے چوڑے وعدے دیا کرتے ہیں کہ ہم ایسا کریں گے اور تم کو اس طور پر خوش کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ کریں گے وہ کریں گے مگر جب یہ نیا معاملہ پیش آ جاتا ہے تو پھر بہت مشکلات پیش آ جاتی ہیں۔اور بدعہدی کرنی پڑتی ہے۔اسی واسطے اﷲ کریم نے فرمایا ہے۔کہ پہلے ہر ایک بات کو اچھی طرح سوچ لو اور بڑا سوچ سمجھ کر نکاح کا معاملہ کیا کرو۔اور اس کے بدلہ میں اﷲ تعالیٰ تمہارے اعمال میں تبدیلی اور اصلاح کرے گا۔اور جو شخص اﷲ کی اطاعت کر کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا کہا مانتا ہے اصل میں وہی اچھی طرح سے بامراد اور کامیاب ہوتا ہے۔( الحکم ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۶) اﷲ تعالیٰ تقویٰ کی ہدایت فرماتا ہے اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے کہ پکّی باتیں کہو۔انسان کی زبان بھی ایک عجیب چیز ہے جو گاہے مومن گاہے کافر بنا دیتی ہے۔معتبر بھی بنا دیتی ہے اور بے اعتبار بھی کر دیتی ہے اس لئے حکم ہوتا ہے کہ اپنے قول کو مضبوطی سے نکالو۔خصوصًا نکاحوں کے معاملہ میں۔اس معاملہ میں پوری سوچ بچار اور استخاروں سے کام لو اور پھر مضبوطی سے اسے عمل میں لاؤ۔جب تم پوری کوشش کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا۔یُصْلِعْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ تمہارے سارے کام اصلاح پذیر ہو جائیں گے۔تمہاری غلطی کو جنابِ الہٰی معاف کر دیں گے کیونکہ جب تقویٰ ہو تو اعمال کی اصلاح کا ذمہ دار اﷲ تعالیٰ ہو جاتا ہے۔اور اگر نافرمانی ہو تو وہ معاف کر دیتا ہے۔ان معاملاتِ نکاح میں عجیب در عجیب کہانیاںسنائی جاتی ہیں۔اور دھوکہ دیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ ہی کا فضل ہو تو کچھ آرام ملتا ہے۔ورنہ چالاکی سے کام کیا ہو اور دنیا میں بہشت نہ ہو۔پھر فرمایا ہے۔بہت لوگ پاس ہونے کیلئے تڑپتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ اصل بات تو یہ ہے کہ جو اﷲ اور رسولؐ کا مطیع ہوتا ہے وہ ہی حقیقی بامراد ہوتا (ہے) اور یہی حقیقی پاس ہے۔(بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ۶، الحکم ۲۶؍ فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۴) یہ ایک دوسری آیت ہے جس میں اﷲ تعالیٰ ایسے تعلقات اور عقد (نکاح) کے وقت یہ نصیحت فرماتا