حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 422
ہیں اور ۲۱۴ میں ہے کام کرودھ۔سہت پنڈت ہو یا مُورکھ ہو۔اس کو بُری راہ میں لے جانے کے واسطے استری لوگ سامرتھ رکھتی ہے۔ستیارتھ کے تیسرے سملاس فقرہ ۴ صفحہ۴۲: لڑکوں اور لڑکیوں کی پاٹھ شالا ایک دوسرے سے دو کوس دور ہونی چاہیئے۔جو معلّمہ یا معلّم یا نوکر چاکر ہوں۔لڑکیوں کے مدرسوں میں سب عورتیں اور مردانہ مدرسہ میں مرد ہوں۔زنانہ مدرسہ میں پانچ برس کا لڑکا اور مردانہ پاٹھ شالا میں پانچ برس کی لڑکی بھی نہ جانے پاوے۔مطلب یہ کہ جب تک وہ برہم چاری یا برہم چارنی رہیں۔تب تک عورت و مرد کے باہمی دیدار۔مَس۔اکیلا رہنے۔بات چیت کرنے۔شہوتی کھانے۔باہم کھیلنے۔شہوت کا خیال اور شہوتی صُحبت۔ان آٹھ قسم کی زناکاری سے الگ رہیں۔سوچو اگر پردہ کی رسم جو اسلام نے قائم کی ہے۔نہ رہے۔تو ان آٹھ قسم کے زنا میں دیدار اور شہوت کے خیال کا کیا حال ہو گا۔(نورالدّین طبع ثالث صفحہ۲۲۱ تا ۲۲۳) …اِلیٰ…: یعنی اگر یہ منافق اور دل کے بیمار اور مدینہ میں بُری خبریں اڑانے والے اب بھی باز نہ آئیں تو ہم تجھے اے پیغمبر انکی سزا دہی پر متوجہ کریں گے۔پھر یہ لوگ تیرے پڑوس میں نہیں رہنے پائیں گے۔ہر طرف سے دھکّے دیئے جائیں گے جہاں کہیں پائے جائیں گے۔پکڑے جائیں گے اور قتل کئے جائیں گے۔… یہ قتل کے احکام ان بدمعاشوںکے متعلق ہیں۔جنہوں نے مومن ایماندار مردوں کو اور مومنہ ایماندار عورتوں کو بے وجہ دُکھ دینا اپنا پیشہ بنا رکھا تھا اور پھر با اینکہ ان کو سمجھایا گیا۔جب بھی فساد اور بغاوت پر تُلے رہے۔(نورالدّین طبع ثالث صفحہ۲۱۴) ۶۲۔ جب مامور من اﷲ آتا ہے تو لوگوں کو اس کی مخالفت کا ایک جوش ہوتا ہے اوریہ اس لئے ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی کے اعزاز کیلئے تل جائے اس کو کوئی ذلیل نہیں کر سکتا۔مدینہ طیّبہ میں ایک رأس المنافقین کا ارادہ ہو(المنافقون:۹) ہم اگر لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو ایک ذلیل گروہ کو معزّرگروہ نکال دے گا۔جناب الہٰی نے فرمایا کہ (المنافقون:۹)معزّز تو اﷲ ہے اور اس کا رسول