حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 421
ایک آریہ کا اعتراض’’ عورتیں پردہ کریں مرد کیوں نہ کریں‘‘ کے جواب میں تحریر فرمایا: اوّل: تو مرد عورت میں مساوات کہاں کہ مساوی حقوق دیئے جاویں۔دوم: عورت کیلئے جو حمل، بچہ جننے، دودھ پلانے کی تکلیف ہوتی ہے اس میں مرد کو کس طرح عورت کے ساتھ مساوات کا حصّہ ہے؟ سوم: عورت کیلئے یہ تکالیف باسباب پَتَرجنم خیال کی جاویں تو بقیہ عدم مساوات کا عُذر وسیع کیوں نہ کیا جاوے۔چہارم: یہ آیت جس کا حوالہ سوال میں دیا گیا یہ ہے۔ ۔… اور اسکے ماقبل یوں ہے(آیت:۵۸،۵۹)ترجمہ : اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ کہ بڑی چادریں اوڑھ لیا کریں۔اس سے یہ فائدہ ہو گا۔کہ وہ پہچانی جائیں گی۔اور ستائی نہ جائیں گی۔اور اﷲ غفور رحیم ہے۔اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو خواہ نخواہ بغیر ان کے اکتساب کے ایذا دیتے ہیں وہ بہتان اور بڑی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہیں۔اور اس کے بعد یہ آیت ہے۔…(آیت:۶۰) یعنی اگر یہ منافق اور دل کے بیمار اور مدینہ میں بُری خبریں اُڑانے والے باز نہیں آئیں گے تو ہم تجھے ان کی سزا دہی پر آمادہ کریں گے۔پھر یہ مدینہ میں تیرے قرب و جوار میں رہنے نہیں پائیں گے۔ان آیات کا مطلب اور قصّہ یہ ہے کہ مدینہ کے بعض بدمعاش مسلمان عورتوں کو چھیڑتے تھے اور عورتوں کو دُکھ دے کر ان کے متعلق لوگوں کو تکلیف پہنچاتے تھے۔چونکہ بظاہر مومن ہونے کے مدّعی تھے اس لئے جب پکڑے جاتے تو عذر کر دیتے کہ اس کو ہم نے پہچانا نہیں۔اسی واسطے یہ نشان لگایا گیا۔غور کرو۔یہ کلمہ قرآن کریم کاَ اورماقبل کی آیت کس قدر صفائی سے بتاتی ہے کہ بڑی چادر ایک نشان تھا اور ان سے واضح ہوتا ہے کہ ایک شرارت کی بندش اسلام نے کی ہے۔اس لئے اس نشان کے بعد فرمایا کہ اب بھی اگر شریر شرارت سے باز نہ آئے تو ہم ان کو خوفناک سزا دیں گے۔افسوس ایسے نشانوں اور سچی باتوں پر اعتراض کیا جاتا ہے۔سنو! اس قسم کے نشان کیسے ہر جگہ موجود ہیں۔غور کرو۔منو۔اودھیائے ۲کے شلوک ۲۱۵۔ماں بہن لڑکی ان سب کے ساتھ اکیلے مکان میں نہ رہے۔کیونکہ اندر ی بہت بلوان ہیں۔پنڈتوں کو بھی بُری راہ پہ کھینچ لاتی