حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 404
کے طور پر باری تعالیٰ اس آیت میں کرتا ہے۔وہ بات یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے جہازوں کے دو بیڑے بنائے تھے۔ایک خلیج فارس اور بحرِ ہند میں۔دوسرا بحرِ روم میں چلتا تھا۔اس امر کا ثبوت معتبر یہودی تاریخ سے سن لیجئے سلاطین اول ۹ باب ۲۶ پھر سلیمان بادشاہ نے عصیون جبر میں جو ایلوت کے نزدیک ہے دریائے قلزم کے کنارے پر جو ادوم کی سر زمین میں ہے۔جہازوں کے بجر بنائے اور حیرام نے اُس بجر میں اپنے چاکر ملاح جو سمندر کے حال سے آگاہ تھے سلیمان کے چاکروں کے ساتھ کر کے بھجوائے اور وے اوفیر کو گئے (اور دیکھو اخبار الایام ۲۔باب ۲۔۱۶) اخبار الایام دوم ۲ باب ۱۶۔بادشاہ کے جہاز حیرام کے نوکروں کے ساتھ ترسیس کو جاتے اور وہاں سے ان پر تین برس میں ایک بار سونا اور روپا اور ہاتھی دانت اور بندر اور مور اسکے لئے بھیجتے تھے۔چونکہ زمانہ سابق میں جہاز کا چلنا صرف ہوا کے موافق اور سازگاری ہی پر موقوف تھا اور حضرت سلیمانؑ کے جہاز بتوفیقِ الہٰی ہوا کی سازگاری سے حسب المرام چلتے اور کام دیتے تھے۔بنا براں باری تعالیٰ اس جگہ امتناناً ریح یعنی ہوا کا ذکر کرتا ہے کہ ہم نے ہوا اس کے کام میں لگا دی اور اس لئے کہ ہوا ہی محرّک اور منشائے جہازرانی کی متممِ اعظم تھی۔ہوا ہی کے ذکر پر اکتفا کیا اور کفایۃًجہازرانی مراد رکھی۔اس آیت کے آگے فرمایا ہے۔ (سبا:۱۳) اس میں اُن جہاز وں کے سفر اور طے مسافت کا بیان ہے کہ صبح و شام میں اتنی مسافت طے کر جاتے تھے جو اس زمانے میں بلحاظ سفر برّی کے ایک مہینے کی راہ ہوتی تھی بیشک اس ابتدائی زمانے میں سفر برّی کی دشواریوں اور صعوبتوں اور راہوں کے محفوظ و مامون نہ ہونے پر اگر نظر کی جاوے تو جہازرانی جس کے ذریعے سے خشکی کی کوسوں کی راہ چند گھنٹوں میں طے ہو جاتی تھی خدا کے فضل اور قدرت کی ایک عظیم الشان آیت (نشانی) تھی اور بنی اسرائیل کے لئے خصوصاً جنہیں اوّل اوّل خدا نے یہ فن عطا کیا۔خدا کے احسانات کے تَذَکَّرکی بڑی بھاری نشانی تھی۔قرآن مجید کا یہ عجیب اور مخصوص طرز ہے کہ اس میں باری تعالیٰ انسان کو وہ منافع اور فوائد جو انسان قویٰ قدرت کے استعمال سے یا اﷲ تعالیٰ کے محض فیض سے ان اشیاء سے حاصل کرتا ہے یاد دلا کر اور اپنا علّت العِلل ہونا ان کے ذہن نشین کرا کر اُس کو اپنی طرف بُلاتا ہے۔اور یہ عجیب طریقہ انسانی قویٰ پر تاثیر کرنے کا ہے۔جو حقیقۃً قرآن کریم ہی سے مخصوص ہے اور اس بیان قوانینِ قدرت سے تمام قرآن لبریز ہے۔ایسا ہی اس آیت میں بھی اُس عادتِ جاریہ کے موافق حضرت سلیمانؑ پر انعام و فضل کا ذکر کیا ہے اس سے آگے والی آیت یہ ہے۔تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖٓ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَافِیْھَا۔چلتے تھے وہ