حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 401
: کئی لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب انہیں بتایا جائے۔یہ کام یوں کرنا چاہیئے۔تو وہ کہتے ہیں۔کیا ہم بھی کوئی نبی ہیں۔یہ بالکل غلط راہ ہے۔نبی کا نمونہ نہ اختیار کیا جاوے تو کسی فرعون یا ہامان کی پیروی کرنی چاہیئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم ستمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۴) تمہارے لئے اﷲ کے رسول کا عمدہ نمونہ ہے۔اُس نمونہ کی بموجب اپنے اعمال بناؤ۔اس لئے مسلمانوں کو رسول کریمؐ کے افعال۔اعمال اور ہر قسم کے نمونہ کے علم کی ضرورت ہے۔اسی لئے صحابہ ؓ نے حضرت رسول کریمؐ کے پوشیدہ سے پوشیدہ امور کو دریافت کیا اور بعد والوں نے جہاں تک انکی طاقت تھی حضرت رسولِ کریمؐ کے دیکھنے والے یا دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں سے اسی طرح سلسلہ سے حضرت رسولِ کریمؐ کے قول اور فعل کو اکٹھا کیا۔تاکہ حضرت رسول کریمؐ کا نمونہ ہاتھ آئے۔ہمیشہ سے قاعدہ ہے کہ کوئی کاریگر جب کوئی چیز نمونہ کے بموجب بناتا ہے۔تو نمونہ آگے رکھ لیتا ہے۔اس لئے صحابہ کے لئے حضرت رسول کریمؐ نمونہ تھے۔اور وہ حضرت رسول کریمؐ کو دیکھ کر ان کے قدم بقدم چل کر کامیاب ہوئے۔(الحکم ۱۰؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۱۰) ۲۴۔ : اپنی بات کو پورا کر چکے ہیں۔خدا کی راہ میں اپنی جانیں بھی دے چکے۔مَنْ: جو اس انتظار میں ہیں۔کہ اگر ضرورت ہو تو وہ بھی اپنی جانیں قربان کریں۔(بدر ۲۹؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۶) ۲۵۔