حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 398 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 398

کو اغوا کرے۔یہ اسلام کا فعل اس وقت کے مارشل لاء سے بہت نرم تھا۔اور حضرت داؤدؑ کی سزا سے جس میں انہوں نے جیتے آدمی جلتے پَزَاْؤوںْ میں جلائے اور پھر ہمیشہ خدا کے مطیع کہلائے۔نہایت نرم ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل ایڈیشن دوم صفحہ۱۱۹تا۱۲۲) غزوۂ احزاب میں تمام عرب کے مختلف فرقے مدینے پر چڑھ آئے اور مدینہ کے یہود اور کل منافق لوگ ان حملہ آوروں کے ساتھ شریک ہوئے اور مسلمانوں کی یہ حالت ہوئی کہ لوگوں نے کہہ دیا۔اور اس واقعہ کی خبر رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے پہلے ہی سے مکّے میں دے دی تھی۔کہ عرب کے احزاب اور ان کی سنگتیں ہم پر چڑھ آئیں گی۔( جیسا عنقریب آتا ہے) اِلَّا وہ سب بھاگ کرنا کامیاب چلے جائیں گے اور ایسا ہوا کہ جب مسلمانوں نے اُس فوجِ کثیر کو دیکھا با ایں ہمہ قلّت تعداد بول اٹھی۔ …(احزاب:۲۳) اس آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے اس حملے کی بابت پہلے ہی خبر دے دی تھی اور یہ خبر علی العموم موافق و مخالف میں پھیلی ہوئی تھی۔چنانچہ  …(احزاب:۱۳) اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ منافق وغیرہ مخالفین بھی پہلے ہی سے اس وعدے کو خوب جانتے تھے گو اب بے ایمانی اور بزدلی نے انہیں قائم نہ رہنے دیا۔نکتہ۔لفظ جو مسلمانوں کے منہ سے نکلا صاف بتلاتا ہے کہ وہ شروع ہی سے اپنی کامیابی پر وثوق کُلّی رکھتیتھے کیونکہکے معنی ہیں۔کسی کو اُس کے مفید مطلب وعدہ دینا بخلاف ایْعَادْ کے کہ اس کے معنے دھمکی دینا اور ڈرانا ہے۔اب ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اس وعدے کا ذکر خود قرآن کی ایسی سورۃ میں موجود ہے جو مکے میں