حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 397 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 397

لاؤ۔تم کو صاف عیاں ہو چکا ہے یہ شخص بے شک نبی ہے۔اور یہ وہی ہے جس کی بابت توریت میں پیشگوئی اور بشارت ہو چکی ہے۔تم اور تمہارا مال و اسباب اور تمہاری جانیں بچ رہیں گی! قوم نے اس پر انکار کیا تب اس نے کہا۔آؤ عورتوں اور بچوں کو قتل کر ڈالیں (اس کی سزا پائی) اور تلواریں لے کر مسلمانوں پر گر پڑیں یہاں تک کہ شہید ہو جاویں۔قوم نے کہا اگر ہم جیت گئے تو بال بچوں اور عورتوں کے بغیر ہماری زندگی کیونکر ہو گی؟ تب کعب نے کہا۔آج سبت کی رات ہے۔محمدیؐ جانتے ہیں آج ہم غافل ہیں اور سُست ہیں۔آؤ غفلت میں مسلمانوں پر حملہ آوری کریں۔تب قوم نے کہا۔تجھ کو خبر نہیں سبت کی بے حرمتی سے ہمارے بڑوں پر کیسے وبال آئے۔وہ سور اور بندر بن گئے۔آخر قوم کے اتفاقات سے یہود نے ایک سفیر جناب رسالت مآب کے حضور روانہ کیا۔اور کہا۔کہ ابولبابہ بن منذر کو ہمارے پاس بھیجے۔ہم اُس سے صلاح لیں گے۔جب ابولبابہ انکی درخواست سے وہاں آئے۔عورتیں اور بچے چلاّئے۔اور یہود نے کہا۔کیا تیری صلاح ہے۔ہم لوگ محمدؐ کے فیصلہ پر دروازہ کھول دیں؟ اس نے کہا۔بیشک۔مگر اشارہ کیا۔وہ تم کو ذبح کا فتویٰ دیں گے۔پھر ابولبابہ پچھتایا اور اپنے آپ کو مسجد میں جا باندھا۔جب محاصرے پر مدّت گزری اور وہ یہود تنگ ہوئے تو ان کم بخت لوگوں نے کہلا بھیجاہماری نسبت جو سعد بن معاذ فیصلہ کرے۔وہ فیصلہ ہم کو منظور ہے۔بد قسمتوں نے رحمۃ للعالمین کو حاکم نہ بنایا۔بلکہ سعد کے فتوے پر راضی ہو گئے۔اور قلعہ سے نکل آئے۔رسولؐ خدا نے سعد بن معاذکو بلایا اور کہا۔یہ لوگ تیرے فیصلے پر ہمارے پاس آئے ہیں اس سپاہی کو اس قوم کی بدچلنی اور بدعہدی اور ناعاقبت اندیشی اور بنوقینقاع اور بنو نضیرسے عبرت نہ پکڑنے پر یہی سوجھی کہ اس بدذات قوم کا قصہ تمام کرو۔اس نے کہا ان کے قابلِ جنگ لوگ مارے جاویں اور باقی قید کئے جاویں۔غرض کئی سو آدمی قریظی مدینہ میں لا کر قتل کیا گیا۔مانا انسانی فطرت کا خاصّہ ہے۔چاہے کوئی کیسے جرائم اور معاصی کا مرتکب ہو جب اس سے کوئی ایسا سلوک کیا جاوے جو ہمارے نزدیک سختی اور بے رحمی ہے تو اس وقت ہمیں خواہ مخواہ ایک نفرت اور کراہت معلوم ہوتی ہے اور ہمارے دل میں رحم۔عدل کی جگہ کو چھین لیتا ہے۔مگر رحم کے باعث عدل چھوڑنا اور جرائم کی سزا سے در گزر نہ چاہیئے۔یہود نے دغادی۔بدعہدی کی۔عین شہر کا امن کھو دیا۔مسلمانوں کی توحید اور موسٰیؑ و توریت کی تعظیم کو بُت پرست قوم کے مقابلہ میں بھُلادیا۔بہر حال مسلمانوں کا حکم قریظہ کی نسبت گرامویل کے حکم سے بہت کم تھا۔جس کے بموجب آئرلینڈ میں شہر ورڈھیڈا کے سب باشندے بلافرق تِہ تیغ بے دریغ کئے گئے۔کار لائلؔ لکھتا ہے۔سچ ہے شریر کا سو مرتبہ قتل ہونا بہتر ہے کہ وہ بے گناہوں