حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 396 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 396

پہنچی۔آپؐ نے بہت سے آدمی تحقیقِ خبر کے لئے روانہ فرمائے اور کہا۔ان لوگوں کو فہمائش کرو۔عہد پر قائم رہیں مگر یہود نے درشت جواب دیا اور کہا۔رسولؐ اﷲکیا ہیں۔جو ہم ان کی اطاعت کریں؟ ہمارا ان کا کوئی عہد نہیں! ان تمام آدمیوں نے جو یہود کے مقابلے کی خبر لینے گئے تھے آ کر عرض کیا۔یہود دشمن کے ساتھ ہو گئے۔قرآن بھی اس کی خبر دیتا ہے۔اور احزاب کے قصّہ میں کہتا ہے۔  …(الاحزاب:۱۱،۱۲) جہاں یہود کی سزا کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے وہاں صاف وجہ سزا کو بیان فرمایا ہے اور اسی سورۃ میں کہا ہے:   (الاحزاب:۲۷) آپؐ کے ساتھی گھبرا گئے۔ادھر تھوڑے سے معدود گروہ پر سارے عرب کی چڑھائی۔اُدھر گھر میں یہود کی بدعہدی۔پھر یہود مدینہ کے طرق اور راستوں کی کیفیت سے واقف محاصرین کفّار کو غیر محفوظ مقام بتا سکتے تھے۔اس لئے بڑا خوف ہوا۔علاوہ برآں منافقوں کا نکل بھاگنا اور کمزور دلوں کا عذر بلاؤں پر بلائیں لایا۔قربان جائیے۔الہٰی عاجز نوازی کے! اُسی کے جنود نے ان سب اعداء کو بھگوڑا بنایا اور تخمیناً ایک مہینے کے محاصرے پر کفّار عرب الہٰی اسبابوں سے بھاگ گئے۔کیونکہ دس ہزار کی بھیڑ کے ساتھ تین ہزار اسلامیوں میں سے صرف تین سو باقی رہ گئے تھے(وہی جو سچے مسلمان تھے) جب دشمن خود بخود بھاگ گئے اور آپؐ کو ان کی طرف سے امن ہوا۔اور یہ اندیشہ مٹ گیا تو اہلِ اسلام کو ایک نیا کھٹکا ہوا۔کہ بنو قریظہ عہد شکنی کر چکے ہیں۔اگر انہوں نے مدینہ پر شب خون مارا تو ہر ایک اسلام والا قتل ہو جائے گا۔لہذا مقتضٰی عاقبت اندیشی نے بتایا تو آپ مقام جنگ سے جہاں خود حفاظتی کیلئے آپ نے کھائی کھود لی تھی۔مدینہ میں تشریف لائے اور قلعہ جات بنو قریظہ کا محاصرہ کیا۔دس پندرہ روز محاصرے میں لگ گئے۔اب قلعہ بند لوگ گھبرائے۔اﷲ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رُعب ڈالا (َ) تب یہودان بنو قریظہ کا رئیس کعب بن اسد قوم میں کھڑا ہوا۔اور وہ اسپیچ دی جس میں کہا۔اے قوم تم کو مناسب ہے۔تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔یا تو اس شخص ( محمدؐ) پر ایمان