حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 388
سُوْرَۃُ الْاَحْزَابِ مَدَنِیَّۃٌ ۲۔ : منافق کے نشان حدیث میں آئے ہیں۔اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ۔وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اؤ تُمِنَ خَانَ۔وَ اِذَا خَاصَمَ فَجَرَ۔: کفر و نفاق سے بچنے اور تقویٰ کے حصول کیلئے علاج بتاتا ہے کہ اﷲ کو علیم یقین کرے۔ایک کہانی ہے کہ زلیخا نے یوسف سے ناجائز درخواست کرتے ہوئے اپنے بُت پر کپڑا ڈال دیا اور پوچھنے پر بتایا کہ اس سے شرم آتی ہے۔جب ایک پتھر سے شرم آنی ممکن ہے تو کیا اس یقین سے کہ خدا علیم ہے کسی بدی کا ارتکاب کرتے ہوئے خدا سے شرم نہ آوے گی۔حکیم کا کام ہے کہ خلافِ پرہیز کام کرنے سے روکتا ہے۔پس جب اﷲ کو حکیم مانے گا تو ایسے کام نہیں کرے گا جو حصولِ تقویٰ میں مانع ہوں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم ستمبر ۱۹۱۰ء) : اے نبی۔اس میں مخاطب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور اس خطاب کے ذریعہ تمام جہان کو آگاہی دی گئی۔: دُمْ عَلَی التَّقْوٰی۔تقویٰ پر ہمیشہ قائم رہو۔: کافروں اور منافقوں کی فرماں برداری مت کرنا۔کافر وہ ہے جو حق بات پر کچھ غور نہ کرے اور اس کا انکار کر دے اور پھر ایسا بن جاوے کہ اس کے واسطے انذار اور عدم انذار برابر ہو۔منافق کے جو علامات نبی کریمؐ نے بیان فرمائے ہیں وہ یہ ہیں۔۱۔جب بات کرے جھوٹ بولے ۲۔وعدہ کرے تو اس کے برخلاف کرے ۳۔امانت میں خیانت کرے