حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 381 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 381

 : سر نیچے کئے ہوں گے۔اس لئے کہ اپنی بداعمالیاں یاد آ آ کر شرمسار ہوں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۲) : اوراگر تو دیکھے وہ لوگ جنہوں نے قطع تعلق کیا ہے۔جنابِ الہٰی سے اس وقت وہ سر جھکائے ہوئے ہوں گے۔عذاب الہٰی سے ڈر کے مارے اور کہیں گے اے ربّ ہمارے۔اب تو ہم نے دیکھ لیا اور خوب سمجھ لیا۔ہمیں دنیا میں لوٹا دے۔اب ہم دنیا میں چل کے اچھے عمل کریں گے۔یہ ان کا جھُوٹا عذر ہو گا۔یاد رکھنا چاہیئے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کے بالمقابل ایک دوسری چیز بنائی ہے اگر انسان میں بدی کرنے کی طاقت ہے تو اس کے بالمقابل اس بدی کے روکنے کی طاقت بھی موجود ہے۔اس واسطے بدی کرنے والی کسی طاقت کو جو کسی انسان میں ہے عذر کرنا قابلِ قبول نہیں۔کیونکہ اس کے بالمقابل فطرتًا دوسری طاقت اس بدی کے روکنے والی بھی تو انسان میں موجود ہے۔ایک دفعہ کسی افسر نے ایک اپنے ملازم کو گالی دی۔اس نے بھی جوش میں آ کر اپنے افسر کو گالی دے دی۔تب اس افسر نے اپنے افسرِ بالا کو رپورٹ کر دی۔اس نے اس ملازم کو بلوا بھیجا۔سامنے آتے ہی اس نے ایک سخت گالی دے کر اس سے پوچھا کہ تُو نے کیوں اپنے افسر کو گالی دی۔اس نے عرض کی۔کہ جب مجھے میرے افسر نے گالی دی تو میں بے ہوش سا ہو گیا۔بالاافسر نے کہا کہ تُو جھوٹ بولتا ہے۔اسی لئے تو میں نے تجھے پہلے گالی دی اب غصّہ اور جوش اور بیہوشی کیوں نہیں آئی؟ (بدر۱۴؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۱۴۔  : اس آیت پر احمق لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ جب خدا نے خود ہی آدمیوں اور جِنّوں سے دوزخ بھرنا ہے تو کسی کا کیا قصور۔قرآن کریم نے اس آیت کا حل ایک دوسری آیت سے کر دیا ہے۔