حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 378
: چھ وقتوں میں ہر چیز کا کمال چھ مرتبے طے کر کے ہوتا ہے۔ایک شخص نے مجھے کہا خدا آناً فاناً نہیں بنا سکتا۔پاس ایک مکّی کا کھیت تھا میں نے کہا اس کا ایک بھُٹّہ لاؤ۔اس نے کہا وہ تو کئی ماہ بعد ہو گا۔تب میں نے کہا۔ایک بھٹّے کیلئے اتنے مہینے بھی خدا ہی لگاتا ہے۔: پھر ہم تم کو اور بات سنائیں۔ سے یہی مراد ہے نہ یہ کہ آسمان زمین بنا کے پھر عرش پرجا چڑھا۔اس کی مثالیں قرآن شریف میں کئی ہیں۔چنانچہ انعام ع ۶پ۸میں ہے کہ (انعام:۱۵۴)پھر آگے چل کر فرماتا ہے (انعام:۱۵۵)قرآن شریف کے بعد موسٰیؑ کو کتاب دینے کا ذکر ’’‘‘ سے فرمایا۔حالانکہ تورات کا نزول قرآن شریف سے پہلے ہوا۔: وہ اپنے تختِ حکومت پر بے عیب ہے۔ٹھیک ٹھاک۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ۲۰۲) : چھ دَوروں میں۔یوم ایک وقت اور ایک دَورہ کو کہتے ہیں۔یومؔ کا لفظ ایک دن پر۔ایک برس پر۔ایک ہزار برس پر۔پچّاس ہزار برس پر یا کسی کام کے پورا ہونے کی ایک منزل کی میعاد کو کہتے ہیں۔آجکل کے جیا لوجسٹ یعنی علم الارض کے ماہروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ زمین کو اس موجودہ صورت تک پہنچنے تک چھ خاص حالتوں میں سے گزرنا پڑا ہے۔جن پر چھ زمانے گزرے تھے… انسان کا بچّہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اس پر بھی چھ ایّام آتے ہیں ۱۔سُلَالَۃٌ مِّنْ طِیْنِ ۲۔نُطْفَہ ۳۔عَلَقَہ ۴۔مُضْغَہ ۵۔عِظَام ۶۔کَسَوْنَا العِظَامَ لَحْمًا۔اس کے بعد پھر انسانی بچّہ پر چھ ایّام آتے ہیں۔۱۔جنین ۲۔رضیع ۳۔غلام ۴۔شابّ ۵۔کَھْل ۶۔شیخ۔ایسا ہی زمیندار ۱۔ہل چلا کر ۲۔ڈھیلے توڑتا ۳۔پانی دیتا ۴۔بیج ڈالتا ۵۔لَو نکلتی ۶۔فصل پکتا۔ایسا ہی آجکل تعلیم چھ درجوں پر کامل ہوتی ہے ۱۔پرائمری ۲۔مڈل ۳۔انٹرنس ۴۔ایف اے