حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 366
(البقرہ:۶۶) ِیعنی جیسا پیار اﷲ سے کرتے ہو۔یہ کسی اَور سے کرنا خدا کا شریک بنانا ہے۔۔نِدْ بنانا یوں ہے کہ مثلاً ایک طرف آواز آ رہی ہے حَیَّ عَلَی الْفَلاَح اور دوسری طرف کوئی اپنا مشغلہ۔جس کو نہ چھوڑا تو یہ بھی شرک ہے۔اس سلسلہ میں آخری شرک کا نام لیتا ہوں اور وہ ریاءؔ ہے۔اس سے بچنا چاہیئے۔حضرت صاحب سے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے پوچھا تو آپؑ نے فرمایا۔جیسا تم لوگوں کو کسی گھوڑی وغیرہ کے سامنے ریاء نہیں آ سکتا۔اسی طرح مامورانِ الہٰی کو لوگوں کے سامنے ریاء نہیں آتا۔ان تما م شرکوں کا ردّ اسی کلمہ طیبہ میں ہے۔جو بہت چھوٹا ہے۔مگر بہت عظیم۔اور میرا یمان ہے کہ اَفْضَلُ الذِّکْرِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کے ساتھ توحید کامل نہ ہوتی اگر اس کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ نہ ہوتا کیونکہ دنیا نے ہادیوں کو خدا کہنا بھی شروع کر دیا۔چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے عاجز اور خاکسار انسان کو خدا بنایا گیا۔کرشن جیسے خدا کے محبّ کو بھی ایسا ہی سمجھا گیا۔ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے جہاں ہم پر اور احسان کئے ہیں وہاں یہ بھی کیاکہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کے ساتھ عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ رکھ دیا۔تاکہ آپ کی اُمّت کبھی اس ابتلاء میں نہ پڑے اور جب آپؐ بندے تھے تو آپؐ کے خلفاء و نوّاب پر کب خدائی کا گمان ہو سکتا ہے۔(بدر ۱۳؍جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ۲) ۱۵۔ ہم نے انسان کو والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔اس کی ماں نے دُکھ پر دُکھ سہہ کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا الگ ہونا ہوا۔تُو اب میرا اور اپنے والدین کا شکر گزار ہو اور پھر آنا میری طرف ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۶۳) : پہلے ماں باپ ہر دو کی طرف توجّہ دلا کر پھر ساتھ ہی ماں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر شروع کر دیاہیکیونکہ عموماً لوگ باپ کی عزّت تو کرتے ہیں مگر ماں کی خدمت کا حق ادا نہیں کرتے۔(بدر۳۱؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۶)