حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 364
یا پیادہ بادشاہ بن جائے۔پھر کس قدر ظلم ہو گا۔کہ پتھر۔مورت۔عناصر۔اشجار۔حیوان یا انسان کو معبود بنا یا جاوے۔حالانکہ ان میں اتنا بڑا فرق ہے کہ کوئی مناسبت ان کے درمیان ممکن نہیں ہے۔ایک ہندو نے ایک دفعہ شرک کی تردید میں ایک حکمت کا کلمہ بولا۔اس نے کہا کہ چوہڑا اور میرا باپ دونوں انسان ہیں، اور ہر دو یکساں آنکھیں۔ناک۔مُنہ وغیرہ اعضاء رکھتے ہیں۔اور بہت سی باتوں میں ایک دوسرے کی مانند ہیں۔لیکن پھر بھی اگر کوئی مجھے کہے کہ تیرا باپ چوہڑا ہے تو مجھے اس قدر رنج اور دُکھ ہوتا جس کا بیان نہیں ہو سکتا۔جب ہمارا یہ حال ہے تو کسی پتھر کی مورت یا عاجز انسان کو معبود کہنا یا معبود بنانا کیسا سخت جُرم اور بھاری ظلم ہے۔(بدر۲۴؍اگست۱۹۰۵ء صفحہ۳،۴) تین بار مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ شرک کیا چیز ہے۔اس سوال سے مجھے رنج بھی ہوا۔تعجّب بھی افسوس بھی۔قرآن کریم سارا اسی کے ردّ سے بھرا ہوا ہے۔پھر شرک کے سب سے بڑے دشمن رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی سنّت سے شرک کا پتہ لگ سکتا ہے۔شرک وہ بُری چیز ہے کہ اس کی نسبت خدا نے فرمایا۔(النساء:۴۹)! پھر بھی مسلمان اس کے معنے نہ سمجھیں تو افسوس ہے۔سب سے پہلا کلام جو انسان کے کان میں بوقت پیدائش و بلوغ ڈالا جاتا ہے وہ شرک کی تردید میں لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ ہے۔یہ ایک بحث ہے کہ کان بہتر ہیں یا آنکھیں۔مولود کے کان میں اذان کہنے کی سنّت سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔اگر یہ لغو فعل ہوتا تو کبھی رسولؐ کی سنّتِ مؤکدّہ نہ بنتا۔یقظۂ نومی جو بیماری ہے۔اس کے عجائبات سے بھی اس کی حکمتیں معلوم ہو سکتی ہیں۔غرض پہلا حکم کانوں کیلئے نازل ہوا اور انبیاء بھی اسی لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ کیااشاعت کیلئے آئے اور خدا کی آخری کتاب نے بھی اسی کلمہ کی اشاعت کی اور جس کتاب سے میں نے دینی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ کی۔اس میں بھی اسی پر زیادہ تربحث ہے۔چونکہ بعض لوگ حکیموں کی بات کو بہت پسند کرتے ہیں۔اور ان کے کلمہ کا ان کی طبیعت پر خاص اثر ہوتا ہے۔اس لئے یہاں ایک حکیم کی نصیحت کو بیان کیا ہے۔اور یہ بھی مسلّم ہے کہ آدمی اپنی اولاد کو وہی بات بتاتا ہے جو بہت مفید ہو اور مُضر نہ ہو۔شِرک عربی زبان میں کہتے ہیں۔سانجھ کرنے کو۔کسی سے کسی کے ساتھ ملانے کو۔تو مطلب یہ ہوا۔کہ اﷲ کے ساتھ کسی کو جوڑی نہ بناؤ۔ایک مقام پر فرمایا ہے۔