حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 360
۵،۶۔ سورۂ بقر کے ابتداء میں بھی قریباً یہی آیات ہیں۔میں نے دیکھا ہے۔۱۔جو لوگ دعاؤں کے قائل نہیں۔۲۔غیب الغیب رنگ میں کسی مالک خالق کے قائل نہیں۔۳۔داد ود ہش کی عادت نہیں رکھتے وہ کبھی کتبِ الہٰیہ سے مُتَمِتْعْ نہیں ہوتے۔اسی واسطے فرمایا۔(بقرہ:۲،۳) سورۃ یوسف میں ہے۔(یوسف:۲۳) جس سے ظاہر ہے۔کہ ہر محسن کو حکم و علم بخشا جائے گا۔: جزا و سزا ’’ غیب‘‘ میں ہے۔: ہدایت پر سوار ہو جاتے ہیں۔اور منزلِ مقصود پر مظفر و منصور پہنچیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۰) ۷۔ : ایسی باتیں جن سے جناب الہٰی سے غفلت ہو جائے۔راگ۔سرود بالخصوص اس کے معنے لینے اپنے اپنے ملک کے حالات کے مطابق ہیں۔: ناسمجھی سے۔: ہلکا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۰) : ایسی بات جو انسان کو خدا سے غافل کر دے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کافر نضر بن حارث نام تھا۔جو لوگوں کو کہتا کہ تم قرآن سننے کیا جاتے ہو آؤ میں تم کو