حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 359
سُوْرَۃُ لُقْمٰنَ مَکِّیَّۃٌ یہ سورۃ قرآن شریف کی پہلی سورۃ بقرہ کے ساتھ مضامین میں بہت ملتی ہے۔ترتیب عبارت اور الفاظ اکثر دونوں سورتوں کے ایک ہی ہیں۔ناظرین مقابلہ کر کے دیکھیں اور لطف اٹھائیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۲ تا۴۔ : اَنَا اﷲُ اَعْلَمُ اَلْحَکِیْمِ: حق و حکمت سے بھری ہوئی۔بڑی مضبوط باتوں والی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۰) لِلْمُحْسِنِیْنَ: جن میں احسان کا مادہ ہے۔ان کیلئے ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے احسان کے معنے کئے ہیں۔اَنْ تَعْبُدَ اﷲَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ وَ اِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ (الحدیث) ۲۔دوسرے سے سلوک و نیکی۔ایک یہودی کسی مسلمان کے پڑوس رہتا اور کوٹھے پر جانوروں کو دانے ڈالتا۔اس مسلمان نے کہا کہ تیرا عمل بے فائدہ ہے۔مگر آخر اُسی نے اُسے مکّہ کا حج کرتے دیکھا اور یہودی نے جتایا کہ اس خیرات کا اجر ہے۔۳۔ایک صحابی نے اپنی اونٹوں کی قربانی کا ذکر کر کے حضور نبویؐ میں عرض کیا کہ وہ شاید قبول نہ ہوئی فرمایا۔اَسْلَمْتَ عَلٰی مَا اَسْلَفْتَ۔۴۔ایک بدکار نے کتّے کو دیکھا۔کیچڑ چاٹ رہا ہے۔اس نے رحم کر کے موزہ اتارا اور کنویں سے بھر کر اسے پانی پلایا۔خدا نے نیکی کی راہ پر ایسا ڈالا کہ وہ جنّتی ہو گیا ( الحدیث ) پس احسان کرنے والوں کو قرآن مجید خوب موجبِ ہدایت و رحمت ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۰)