حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 358 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 358

شورِ مخالفت بلند ہوتا ہے۔خصوصًا بڑے لوگ سخت مخالفت پر اُٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔کچھ آدمی ہوتے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے چُن لیتا ہے اور وہ اس راستباز کی اطاعت کو نجات کیلئے غنیمت اور مرنے کے بعد قُرب الہٰی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اور بہت سے مخالفت کیلئے اٹھتے ہیں جو اپنی مخالفت کو انتہاء تک پہنچاتے ہیں۔یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کی نصرت اور مدد آ جاتی ہے۔اور زمین سے آسمان سے دائیں سے بائیں سے غرض ہر طرف سے نصرت آتی ہے اور ایک جماعت تیار ہونے لگتی ہے۔اس وقت وہ لوگ جو بالکل غفلت میں ہوتے ہیں اور وہ بھی جو پہلے عدم وجود مساوی سمجھتے ہیں آ آ کر شامل ہونے لگتے ہیں۔وہ لوگ جو سب سے پہلے ضعف و ناتوانی اور مخالفت شدیدہ کی حالت میں آ کر شریک ہوتے ہیں ان کا نام سابقین اوّلین ،مہاجرین اور انصار رکھا گیا۔مگر ایسے فتوحات اور نصرتوں کے وقت جو آ کر شریک ہوئے ان کا نام ناسؔ رکھا ہے۔یاد رکھو جو پودا اﷲ تعالیٰ لگاتا ہے اس کی حفاظت بھی فرماتا ہے۔یہاں تک کہ وہ دنیا کو اپنا پھل دینے لگتا ہے لیکن جو پودا احکم الحاکمین کے خلاف اس کے منشاء کے موافق نہ ہو اس کی خواہ کتنی ہی حفاظت کی جاوے وہ آخر خشک ہو کر تباہ ہو جاتاہے۔اور ایندھن کی جگہ جلایا جاتا ہے۔پس وہ لوگ بہت ہی خوش قسمت ہیں جن کو عاقبت اندیشی کا فضل عطا کیا جاتا ہے۔(الحکم ۷؍فروری ۱۹۰۲ء صفحہ۶)