حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 357 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 357

ایک وہ وقت ہوتا ہے کہ جب دنیا میں اندھیرا ہوتا ہے اور ہر قسم کی غلطیاں اور غلط کاریاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔خدا کی ذات پر شکوک۔اسماء الہٰیہ میں شبہات۔افعال اﷲ سے بے اعتنائی اور مسابقت فی الخیرات میں غفلت پھیل جاتی ہے۔اور ساری دنیا پر غفلت کی تاریکی چھا جاتی ہے۔اس وقت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس کا کوئی برگزیدہ بندہ اہل دنیا کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے مولیٰ کی عظمت و جبروت دکھانے۔اسماء الہٰیہ و افعال اﷲ سے آگاہی بخشنے کے واسطے آتا ہے۔تو ایک کمزور انسان تو ساری دنیا کو دیکھتا ہے کہ کس رنگ میں رنگین اور کس دُھن میں لگی ہوئی ہے۔اور اس مامور کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ سب سے الگ اور سب کے خلاف کہتا ہے۔کل دُنیا کے چال چلن پر اعتراض کرتا ہے۔نہ کسی کے عقائد کی پرواہ کرتا ہے نہ اعمال کا لحاظ۔صاف کہتا ہے۔کہ تم بے ایمان ہو اور نہ صرف تم بلکہ  سارے دریاؤں جنگلوں۔بیابانوں۔پہاڑوں اور سمندروں اور جزائر۔غرض ہر حصّہ دنیا پر فساد مچا ہوا ہے۔تمہارے عقائد صحیح نہیں۔اعمال درست نہیں۔علم بُودے ہیں۔اعمال ناپسند ہیں۔قویٰ اﷲ تعالیٰ سے دور ہو کر کمزور ہو چکے ہیں۔کیوں! تمہاری اپنی ہی کرتوتوں سے۔پھر کہتا ہے۔دیکھو میں ایک ہی شخص ہوں۔اور اس لئے آیا ہوں کہ ۔لوگوں کو ان کے بدکرتوتوں کا مزہ چکھا دیا جاوے۔بہت سی مخلوق اس وقت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے عدم اور وجود کو برابر سمجھتی ہے اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ بالکل غفلت ہی میں ہوتے ہیں۔انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔اور کچھ مقابلہ و انکار پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اﷲ تعالیٰ اپنی عظمت و جبروت دکھانا چاہتا ہے۔وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو مال و دولت کنبہ اور دوستوں کے لحاظ سے بہت ہی کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں۔بڑے بڑے رؤسا اور اہل تدبیر لوگوں کے مقابلہ میں ان کی کچھ ہستی ہی نہیں ہوتی۔یہ اس مامور کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یعنی ضعفاء سب سے پہلے ماننے والے کیوں ہوتے ہیں؟ اس لئے کہ اگر وہ اہل دُوَل مان لیں تو ممکن ہے خود ہی کہہ دیں۔کہ ہمارے ایمان لانے کا نتیجہ کیا ہوا۔دولت کو دیکھتے ہیں۔املاک پر نگاہ کرتے ہیں۔اپنے اعوان و انصار کو دیکھتے ہیں۔تو ہر بات میں اپنے آپ کو کمال تک پہنچا ہوا دیکھتے ہیں اس لئے خدا کی عظمت و جبروت اور ربوبیت کا ان کو علم نہیں آ سکتا۔لیکن جب ان ضعفاء کو جو دنیوی اور مادی اسباب کے لحاظ سے تباہ ہونے کے قابل ہوں۔عظیم الشان انسان بنا دے اور اُن رؤسا اور اہل دُوَل کو ان کے سامنے تباہ اور ہلاک کر دے تو اس کی عظمت و جلال کی چمکار صاف نظر آتی ہے۔غرض یہ سِّر ہوتا ہے کہ اوّل ضعفاء ہی ایمان لاتے ہیں۔اس دُبْدھَا کے وقت جبکہ ہر طرف سے