حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 351
کا لابّد اقرار کرتے ہیں۔سلیم الفطرت۔دانا جب تمام اپنے اردگرد کی مخلوق کو بے نقص۔کمال ترتیب۔اعلیٰ درجہ کی عمدگی پر پاتے ہیں۔ضرور بے تابی سے ایک علیم و خبیر قادر کے وجود پر گواہی دیتے ہیں۔فطرت کی اسی زبردست دلیل پر غور کرو۔قرآن مجید کیسے الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ اور اس کے نشانوں سے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا۔پھر تم اچانک چلتے پھرتے آدمی ہو گئے ان کلمات میں قرآن اُن آیات صانع حکیم کی طرف توجّہ دلاتا ہے جو انسان کی ذات میں موجود ہیں۔ان کلمات طیبّات سے پہلے اور اس دلیل سے اوّل اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدو سیت ہر ایک نقص سے پاک ہر ایک صفتِ کاملہ کے ساتھ متصف ہونے کا اظہار اور عبادت کی تاکید کی ہے اور کہا ہے۔۔ اﷲ کی قدّوسیّت بیان کرو۔جب تم شام کرتے اور جب تم صبح کرتے ہو اور اُسی کیلئے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تم ظہر کرتے ہو۔اس دعوٰی کا مدار وجودِ صانع پر تھا۔اس لئے وجود صانع کی دلیل بیان فرمائی اور دلیل بھی ایسی دی جس سے یہ مطلب بھی ثابت ہو گیا۔بیان دلیل یہ ہے کہ آدمی کو دو باتیں حاصل ہو رہی ہیں۔اوّلؔ شخص انسانی کا وجود اور اسکی بقا۔دومؔ بقائے نوع جو مرد عورت کے ملنے سے حاصل ہوتا ہے۔پہلے انعام کی نسبت فرمایا کہ کہ انسان اپنی اصل بناوٹ پر نظر کر کے دیکھیں کہ وہ مٹی سرد اور خشک ہے۔اسی سرد و خشک سے تیری گرم اور تر جسمانی روح کو پیدا کیا اور عیاں ہے۔کہ مٹی میں تو کوئی ادراک نہیں۔حرکت ارادیّہ نہیں۔کوئی حیات نہیں۔رنگت میں سیکھیں تو مَیلی گَدْرِیْ، وزن میں ثقیل۔کثافت میں یکتا۔۔اسی مٹّی کے ذرّات سے مدرک متحرّک بالارادہ۔زندہ۔نئی زندگی کے قابل انسان کی ایسی جسمانی رُوح بنا دی۔جو کدورتوں سے پاک۔ہلکا۔پھلکا۔اعلیٰ درجہ کا شفاف صاف نیّر جوہر ہے کس تحتانی حالت سے کس بلند درجے پر پہنچایا۔پھر بے ریب وہ زبردست طاقت موجودہ اور بے تردّد وہ قدّوسیّت اور حمد کے لائق ہے۔یہ اُس یدِ قدرت کا نفش ہے جسے اﷲ۔یہوواہؔ۔یزدانؔ اُوم کنجک کہتے ہیں۔بناء علیٰ ھٰذا اس مبارک آیت کو پڑھو اور مانو