حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 341
معنے؟ اب دھوکہ کے باعث منکر نہیں۔صرف ضِد اور ہٹ اور عداوت کے سبب سے مُنکر ہو رہے ہیں۔بے ریب وہ ( قرآن) کھلی نشانیاں ہیں۔علم والوں کے لئے اور ہماری نشانیوں سے وہی منکر ہیں جو بڑے ظالم ہیں۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور انکے جوابات صفحہ۵۹۔۶۰) ۵۱۔ : نشان مانگتے ہیں۔پہلا نشان تو یہی ہے کہ میں نذیر ہوں۔میرے مخالفوں پر عذاب آنے والا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۷) : قہری نشانات۔معجزاتِ قرآنی کے منکر تین گزرے ہیں۔سرسید۔لیکھرام۔حافظ نذیر احمد۔حالانکہ ایسی آیتوں میں انکار نہیں۔وہ تو فرماتا ہے۔اﷲ کے پاس نشانات ہیں اور میں انہی سے ڈرانے والا ہوں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۳ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۵۲۔ : یہ رحمت کا نشان فرمایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۷) اگر انسان میں ضد نہ ہو اور غور و فکر کرے تو قرآن کافی کتاب ہے۔قرآن نور ہے۔ہدایت ہے، رحمت ہے، شفا ہے۔اور ہر ایک قسم کے اختلاف مٹانے کے واسطے آیا ہے۔۔اور یہی راہ ایمان کی ہے۔…(الحکم ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۴) یہ کتاب ( قرآن مجید) ہزارہا شبہات کے مقابلہ کیلئے کافی ہے۔کیا ہی پاک رُوح تھی وہ جس کے مُنہ سے نکلا حَسْبُنَا کِتَابُ اﷲِ اس فقرے پر ایک قوم رنجیدہ ہے۔اس کے ایک فرد نے مجھ پر بھی اعتراض کیا۔تو میں نے اس سے پوچھا آپ حَسْبُنَاکے کیا معنے کرتے ہیں اس نے کہا کَافَیْکَ